انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 166 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 166

تغییر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۱۶۶ سورة الزمر پھر قرآن کریم کی تعلیم اثر کرے گی اور وہ کیفیت جو عظمت کے مشاہدہ کے بعد پیدا ہوتی ہے۔وہ پیدا ہونے لگ جائے گی۔لیکن اگر خشیت اللہ نہ ہو اگر اللہ تعالیٰ کی عظمت کا احساس ہی نہ ہو اور اس کے سامنے تذلیل اختیار کرنے کا عہد نہ ہو تو پھر قرآن کریم کی تعلیم کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔پس انسان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر خشیت اللہ پیدا کرے۔خشیت اللہ صرف کسی انتہا کا نام نہیں ہے بلکہ اس کی ابتدا بھی ہے اور اس کی انتہا بھی ہے۔نیز اس کی ابتداء اور اس کی انتہا میں بڑے فاصلے ہیں۔اور بڑی دوری ہے۔انسان اسے شروع کرتا ہے اور پھر وہ ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔وہ آہستہ آہستہ کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔آخر حضرت خالد بن ولید اسلام لانے کے بعد پہلے دن تو اتنی خشیت اللہ نہیں رکھتے تھے جتنی مثلاً یرموک کے میدان میں انہوں نے دکھائی تھی۔اور اللہ تعالیٰ کے رعب کے نیچے آ کر انتہائی عاجزی کی راہوں کو اختیار کیا تھا۔وہ جرنیل تھے مگر خلیفہ وقت کا حکم آیا تو سپاہی بن گئے۔اور دل میں قطعاً کسی قسم کا کوئی احساس پیدا نہیں ہونے دیا۔اس واسطے کہ جہاں ان کو خلافت کے حکم نے لا کر کھڑا کیا تھا اس سے بھی نیچے انہوں نے خود اپنے آپ کو کھڑا کیا ہوا تھا۔اور یہی انتہائی تذلیل کا مقام ہے۔پس یہ تو ہے خشیت۔دوسرے محبت الہی ہے جو ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلى ذِكرِ اللہ سے مستنبط ہے اور یہ محبت اللہ تعالیٰ کے احسان اور دوسری جمالی صفات کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔پس ان ہر دو یعنی خشیت اور محبت کی ایک ابتدا بھی اور ایک انتہا بھی ہے۔لیکن کوئی فاصلہ حرکت کے بغیر طے نہیں کیا جاسکتا اور کسی منزل پر آپ چلے بغیر پہنچ نہیں سکتے۔اس لئے جب آپ اس کی ابتدا کریں اور پھر حرکت کریں یعنی اپنی ذہنی ، اخلاقی اور روحانی تربیت کریں تب آپ یہ فاصلہ طے کر سکیں گے اور اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق اس کی انتہا تک پہنچ سکیں گے۔چونکہ ہر ایک آدمی کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔اس لئے ہر ایک آدمی نے اپنے دائرہ صلاحیت میں ترقی کرنی ہے۔تاہم اس دائرہ کے اندر رہتے ہوئے اپنے لحاظ سے چھوٹی سی ابتدا کر کے اس کی انتہا تک پہنچنا ہے۔پس قرآن کریم محض پڑھنے کی کتاب نہیں ہے۔یہ تو ایک ایسی کتاب ہے جس سے زندگیوں میں اس سے بھی بڑا انقلاب آتا ہے جو انسان کی ظاہری آنکھ نے اشترا کی انقلاب کی شکل میں روس میں یا سوشلسٹ انقلاب کی شکل میں چین میں دیکھا ہے۔انسان دراصل خود ایک عالم ہے۔ہمارے صوفیا