انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 164 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 164

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۶۴ سورة الزمر ہدایت دے رہا ہے اپنے زور سے نہیں وہ کر سکتے۔ان کے اوپر احسن عمل کرنے کے لئے آسمانی ہدایت نازل ہوتی ہے اس شخص پر وَ أُولَيكَ هُمْ أُولُوا الالباب اور حقیقی اور صحیح معنی میں یہی لوگ عقلمند أولوا الألباب کہلا سکتے ہیں کیونکہ جس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل دی اس غرض کو وہ پورا کرنے والے ہیں۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۴۶۲، ۴۶۳) آیت ۲۴ اللهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتبًا مُّتَشَابِهَا مَثَانِي تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَ عدُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إلى ذكرِ اللَّهِ ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِى بِهِ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادِه b اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے قرآن کریم کا اثر قبول کرنے کے لئے دو بنیادی باتیں بتائی ہیں۔ایک خشیت اللہ کا ہونا اور دوسرے محبت الہی کا دل میں پایا جانا۔جہاں تک خشیت کا تعلق ہے، عربی زبان میں صرف خوف یا ڈر کا نام خشیت نہیں ہے۔بلکہ اُس خوف کو خشیت کہتے ہیں جو کسی کی عظمت اور جلال کے عرفان کے بعد دل میں پیدا ہوتا ہے یعنی کسی کی عظمت اور جلال کی معرفت کے بعد اس کا خوف کھانا خشیت کہلاتا ہے۔پھر اسی طرح محبت سے میری مراد د نیوی محبت نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے جب محبت کا تعلق ہو تو اسے محبت الہی کہتے ہیں اور یہ محبت، اللہ تعالیٰ کی جمالی صفات کے نتیجہ میں اور اس کے احسان کو دیکھ کر دلوں میں پیدا ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میں صرف اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کروں۔عربی محاورہ اور اردو ترجمہ کے لحاظ سے عبادت کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں صرف اللہ تعالیٰ کے حضور تذلل اور فروتنی اختیار کروں۔غرض عربی لغت میں عبادت کے معنے غاية النلل کے ہوتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے انتہائی تذلل اور فروتنی کی راہوں کو اختیار کیا جائے۔مگر یہ