انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 161 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 161

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث 171 9991 سورة الزمر پندرھویں آیت اس سورت (سورۃ الزمر) کی یہ ہے۔قُلِ اللهَ اعْبُدُ چونکہ میرے دل میں یہ خشیت ہے کہ اگر میں نے اسلام کو چھوڑا تو خدا تعالیٰ کا عذاب مجھ پر نازل ہوگا۔اس لئے یہ اعلان کر دے کہ میں خدا کو نہیں چھوڑ سکتا۔پھر کہہ دے کہ میں اللہ کی عبادت اطاعت کو صرف اس کے لئے وابستہ کرتے ہوئے کرتا ہوں۔اسلام کیا ، اسلام کے کسی حکم کو بھی میں چھوڑ نہیں سکتا۔اسلام پر پختگی کے ساتھ میں قائم ہوں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اسلام کے لانے والے، اسلام کو پھیلانے والے، اسلام کو بتانے والے، اسلام کی تفسیر کرنے والے، اسلام پر چل کر ایک اسوہ قائم کرنے والے ہیں۔بنی نوع کے لئے لیکن ہر انسان کو امت میں سے کہا گیا ہے کہ یہ اعلان کرو کہ دنیوی طاقتیں اگر ہمیں اسلام سے پرے ہٹانے کا سارا زور بھی لگا دیں گی تو ہم اسلام کا جو راستہ ہے جو ہدایت ہے جو تعلیم ہے اور جو یہ عظیم احسان ہے۔اللہ تعالیٰ کا ہماری قوتوں اور استعدادوں کی نشوونما کے لئے سامان پیدا کرنے کے لئے ، ہم اس راہ سے کسی خوف سے یا کسی ڈر سے یا کسی لالچ سے ادھر ادھر نہیں جائیں گے۔ہم اس کے اوپر مضبوطی سے قائم ہیں۔قُلِ الله أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَهُ دِینِی کہہ دے کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کو صرف اس کے لئے وابستہ کرتے ہوئے کرتا ہوں۔قرآن کریم ہماری ایک ایسی شریعت ہے، ایک ایسی تعلیم ، ایک ایسا دین جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود اس میں فرمایا۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدة : ۴) آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا۔میں نے کہا تھا اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ۔اس لئے کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ یہ دینِ اسلام کامل ہو گیا۔اس لئے نہیں کہ تمہیں تکلیف میں ڈالے۔اتسمت عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدة : ۴) اس لئے کہ تمہارے اوپر میری نعمتوں کی انتہا ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں یہ ہو کہ میں تم سے راضی ہو جاؤں۔میں نے تمہارے لئے دینِ اسلام کو پسند کیا۔اس پر چلو گے میں تمہیں پسند کرنے لگ جاؤں گا۔قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ کہ دو پکار کے ساری دنیا کے سامنے کہ میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا له دینی اس لئے سن لو کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت، اطاعت کو صرف اس لئے وابستہ کرتے ہوئے کرتا