انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 6
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶ سورة الروم درمیان فیصلہ ہو جائے گا اُس وقت کفار مکہ جو تھے وہ تو تھے ہی مگر یہ ۳۱۳ آ دمی کس برتے پر، کس سہارے پر بدر کے میدان میں لڑنے چلے گئے تھے۔وہ اس یقین کے ساتھ لڑنے گئے تھے کہ ان وَعْدَ اللهِ حَق اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا فا صبر یہ حکم تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا گیا ہے۔مگر اس قسم کا حکم بعض تفسیری معنوں کے لحاظ سے صرف آپ کے اوپر چسپاں ہوتا ہے اور بعض تفسیری معنوں کے لحاظ سے آپ کی امت پر انفرادی اور اجتماعی ہر دولحاظ سے چسپاں ہوتا ہے۔اس اعتبار سے فاصبر کے معنے ہوں گے مسلمانو! ایمان کی راہ پر بشاشت کے ساتھ قربانیاں دیتے چلے جاؤ۔إنَّ وَعْدَ الله حق تم مخالف دُنیا کی طاقت کی طرف نہ دیکھو خدا تعالیٰ نے تمہاری مد کا وعدہ کیا ہے۔وہ اس کو ضرور پورا کرے گا۔کیونکہ وہ سب طاقتوں کا مالک ہے۔پھر یہ دور بھی ختم ہو گیا۔اسلام کو ظاہری شان و شوکت نصیب ہوئی۔سارا عرب مسلمان ہو گیا پھر کسری اور قیصر مقابلے پر آ نکلے۔اُن کو اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا۔اس سے پہلے وہ آپس میں بھی لڑ چکے تھے۔ان کی باہمی لڑائی کے جو واقعات رونما ہوئے تھے ان میں اللہ تعالیٰ کی عجیب حکمت کار فرما ہے۔اس سے ہمیں بڑے سبق ملتے ہیں چنانچہ اُس زمانے میں ایک وقت میں کسری کی فوجوں نے قیصر کی فوجوں پر فتح حاصل کی اور دوسرے موقع پر قیصر کی فوجوں نے کسریٰ کی فوجوں پر فتح حاصل کی اور اس وقت اسلام اپنی مکی زندگی اور مدنی زندگی میں یعنی جیسا کہ میں نے ادوار گنوائے ہیں اس لحاظ سے دوسرے اور تیسرے دور میں سے گزر رہا تھا۔پس ان کی آپس میں لڑائی کے یہ دو واقعات خاص حکمت کے ماتحت رونما ہوئے اور اس سے دُنیا کو یہ بتانا تھا کہ ہر دو بہت بڑی طاقتیں ہیں۔اگر ان کی یہ جنگیں نہ ہو تیں تو آج مخالف تاریخ دان اور مستشرق اور دوسرے لوگ بھی یہ کہہ دیتے کہ اسلامی فوجوں نے کیا کارنامہ دکھایا۔یہ تو چھوٹی چھوٹی حکومتیں تھیں۔اُن کے پاس تھوڑی تھوڑی فوج تھی لیکن جب وہ ایک دوسرے کے خلاف میدان جنگ میں آئیں تو ساری دُنیا کی طاقت بن کر دونوں میں آگئی ساری دنیا کے ہتھیار بٹ کر دونوں کے پاس آگئے۔اُن علاقوں میں جہاں ہاتھی استعمال نہیں ہوتے تھے وہاں ہاتھی استعمال کئے گئے۔اُن کے بعض سپاہیوں نے اپنے پاؤں کو بڑی بڑی زنجیروں سے باندھ لیا یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ انہیں