انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 5 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 5

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة الروم بہر حال پہلے دور میں بھی یعنی جس وقت مکی زندگی میں گنتی کے چند آدمی تھے۔اگر انہیں یہ یقین نہ ہوتا کہ إِنَّ وَعْدَ الله حق کی رو سے اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہوں گے اگر انہیں یہ بشارت نہ دی گئی ہوتی کہ اسلام ساری دنیا پر اور دنیا کے سارے ادیان باطلہ پر غالب آئے گا تو وہ مظلومیت کی زندگی کو بشاشت کے ساتھ برداشت کر ہی نہ سکتے۔پھر دوسرے دور میں مسلمانوں کی تعداد تو کچھ زیادہ ہو گئی۔پہلے گنتی کے افراد تھے مسلمانوں کی فرداً فرداً گنتی ہو رہی تھی۔مگر اس کی بجائے اب ہیں ہیں کی گنتی ہونے لگی۔مجھے اس وقت صحیح اعداد و شمار تو یاد نہیں لیکن جب ہجرت کے معا بعد مدینہ میں مسجد نبوی بنائی گئی تھی تو اس وقت نمازیوں کی تعداد دواڑھائی سو ہوا کرتی تھی اس سے زیادہ نہیں تھی حالانکہ اس وقت تک مدینہ کے لوگ بھی مسلمانوں میں شامل ہو گئے تھے۔بہر حال بیسیوں مسلمان کہنا چاہیے جو دوسرے دور میں ظلم و تشدد کے باوجود اسلام کی بقا کے لئے ہر قسم کی قربانی دیتے رہے۔اس وقت دنیوی لحاظ سے یاڈ نیوی سامانوں کے لحاظ سے بظاہر یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ یہ لوگ بچ جائیں گے۔وہ اپنی اس جدو جہد میں اور اسلام کو غالب اور مستحکم کرنے کے لئے ان تھک کوشش میں کامیاب ہو جائیں گے۔مگر ان کے دلوں میں چونکہ پختہ یقین تھا کہ ان وَعْدَ اللهِ حَقٌّ اللہ تعالیٰ نے جو یہ وعدہ کیا ہے کہ اسلام ساری دُنیا پر غالب آئے گا۔یہ سچا وعدہ ہے حالانکہ ظاہر میں نہ کوئی عقلی دلیل اور نہ کوئی ظاہری سامان اس وعدہ کو سچا کرنے کے لئے موجود تھے لیکن چونکہ مسلمانوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت پر یقین تھا۔آپ کے ذریعے انہیں جو وعدے ملے تھے ان پر ان کا یقین تھا اس لئے وہ اپنے دشمنوں سے محفوظ رہے اور اپنی کوششوں میں کامیاب ہو گئے۔پھر تیسرا دور شروع ہوا۔اس میں بھی چند سو مسلمان تھے۔میں نے بتایا ہے بدر کے میدان میں ۱۳ ۳ کے قریب صحابہ شامل تھے۔ان چند سومسلمانوں کو مٹانے کے لئے رؤسائے مکہ پوری شان کے ساتھ آئے وہ اپنے تمام دوستوں اور لواحقین کے ساتھ ، اپنے نوکروں اور غلاموں کے ساتھ اور اونٹنیوں اور سیوف ہندی (جو اس زمانے میں بڑی مشہور تھیں) کے ساتھ آئے تھے۔اُن کا اِرادہ بھی تھا، ان کی خواہش بھی تھی اور اُن کو یقین بھی تھا کہ بدر کے میدان میں اسلام اور بت پرستوں کے