انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 147 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 147

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۴۷ سورة الزمر (Pointer) ہے کسی جہت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔قرآن کریم نے یہاں تو (هَلْ يَسْتَوِى الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ایک آیت کا چھوٹا سا ٹکڑہ ہے اس میں ) یہ حقیقت بیان کی لیکن بھرا پڑا ہے اس تفصیل سے کہ مراد کیا ہے علم سے۔چند ایک مثالیں دو ایک میں دوں گا ابھی۔اسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر عقل مند جو ہے وہ آخرت کا خوف تو نہیں رکھتا۔یہ جو بڑے بڑے عقل مند بڑی ایجادیں انہوں نے کیں ہیں، ان کے دل میں کوئی آخرت کا خوف نہیں یا یوں کہنا چاہیے کہ اکثر کے دل میں، کیونکہ اب مسلمان بھی ابھر رہا ہے۔ڈاکٹر سلام بھی آگے نکل آئے ہیں۔تو دنیا کے اکثر سائنسدان ایسے ہیں جن کے دل میں آخرت کا خوف نہیں یعنی اس بات سے وہ خائف نہیں کہ ہماری زندگی کا ایک مقصد ہے اور اگر ہم اس مقصد کے حصول میں ناکام ہوئے تو اللہ تعالیٰ کا غضب ہم پہ بھڑ کے گا اور وہ اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔وہ خدا کو ہی نہیں مانتے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید رکھنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔تو آمَنْ هُوَ قَانِتُ أَنَاءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَ قَابِما اس کی تفسیر لبی میں میں نہیں جاؤں گا اس وقت۔لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت سے یہ بتایا کہ جو راتوں کو اٹھتے اور اپنی فرمانبرداری کا اعلان کرتے ہیں خدا کے سامنے چھپ کے سا جد او قابما سجدہ کرتے ہوئے اور قیام میں۔اس کی بڑی لمبی چوڑی تفسیر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی کی ہیں، حضرت مصلح موعود نے بھی کی ہے بہر حال یہ کیفیت قانت آناء اليْلِ سَاجِدًا وَ قابِما یہ پیدا نہیں ہوسکتی جب تک کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی ، جہاں جزا سزا کا فیصلہ ہوگا۔جب تک انسان یہ نہ سمجھے کہ میری مخلصانہ کوشش اور مقبول اعمال کے نتیجہ میں اس قدر اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل کرتا ہے کہ ان کا شمار نہیں اس وقت تک وہ راتوں کو اٹھ کے اپنی عاجزی کا متضرعانہ دعاؤں کا راستہ اختیار نہیں کرتا۔تو اعلان کیا گیا کہ لَا يَسْتَوِی الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ جو عالم ہیں وہ جاہل کے برابر نہیں ہو سکتے اور مراد یہ ہے کہ ایسے عالم جو اولوا الا لباب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے الْعَقْلُ الْخَالِصُ دی ہے۔جس عقل میں کوئی عیب اور نا پا کی نہیں اور جو ما بہ الامتیاز پیدا کرتی ہے اس عقل کے درمیان جو خدا تعالیٰ کے نور اور حسن سے بھر پور ہے اور اس عقل کے درمیان جواندھیروں میں گروپ (Grope) کر رہی ہے، ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔صاحب مفردات راغب معنی بھی کرتے ہیں الفاظ قرآنی کا اور