انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 146 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 146

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۴۶ سورة الزمر آیت اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ أَنَاءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَ قَابِمَا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَ يَرْجُوا رَحْمَةَ رَبِّهِ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ۔یہاں هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ اس چھوٹے سے ٹکڑے میں آیت کا مضمون یہ بیان ہوا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایک تو عقل عطا کی اور ایک لب عطا کی۔عقل عام ہے ہر کس و ناکس میں کچھ نہ کچھ تو عقل پائی جاتی ہے۔جو د ہر یہ بھی ہیں وہ بھی بعض پہلوؤں سے بڑے عقل مند ہیں۔جو بت پرست ہیں وہ بھی عقل رکھتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی کب نہیں رکھتا۔اس کے معنی مفردات راغب میں یہ کئے گئے ہیں۔اللُّبُ العَقْلُ الْخَالِصُ مِنَ الشَّوائِبِ وَ سُمّى بِذلِكَ لِكَوْنِهِ خَالِصَ مَا فِي الْإِنْسَانِ مِنْ معانِيْهِ وَ قِيْلَ هُوَ مَا زَكَى مِنَ الْعَقْلِ فَكُلُّ لُبٍ عَقْلُ وَلَيْسَ كُلُّ عَقْلٍ لُنَّا وَلِهَذَا عَلَّقَ اللهُ تَعَالَى الْأَحْكامَ الَّتِي لَا يُدْرِكُهَا إِلَّا الْعُقُولُ الزَّكِيَّةُ بِأُولِي الْأَلْبَابِ - فرق یہ ہے کہ محض عقل کے لئے پاکیزگی کی ضرورت نہیں لیکن اس عقل کے لئے جواب کہلاتی ہے پاکیزگی کی ضرورت ہے۔الخَالِصُ مِن الشوائب کے معنی ہیں کہ جس میں کوئی عیب نہ پایا جائے کوئی نا پا کی نہ پائی جائے ، دنٹس نہ پایا جائے اور جو مقصدِ حیات ہے اس سے دور لے جانے والی چیز نہ پائی جائے۔تو وہ عقل جو الخَالِصُ مِنَ الشّوائِب ہے اسے لب کہتے ہیں اور یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں وہ ان جیسے نہیں جو علم نہیں رکھتے لیکن جس علم کا یہاں ذکر کیا گیا وہ عام علم نہیں جو عام عقل کے ذریعہ سے حاصل کیا جاتا ہے اس لئے آگے فرما یا انَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُوا الالباب جو اولوا الا لباب ہیں وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں۔وہ علم رکھتے ہیں اور علم سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔بنیادی علم جو انسان کی ہدایت کا موجب بنتا اور جس سے وہ نصیحت حاصل کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا ظہور جو ہے وہ اس کا علم ہے یعنی معرفت ذات باری تعالیٰ کا علم رکھنا، یہ تعلق رکھتا ہے اس انسان سے جو اولوا الالباب کے گروہ میں ہے اور ہر جلوہ اللہ تعالیٰ کی صفت کا ایک پوائنثر