انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 145 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 145

تغییر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۴۵ سورة الزمر ہیں اور بڑے ہیں ان طریقوں سے خرچ نہ کرو۔پس اس چھوٹی سی آیت میں اور چند الفاظ میں بڑے وسیع معانی اور مطالب بیان فرمائے گئے ہیں بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم عبادت کرو تو اس طرح کہ تمام دنیوی تدابیر کو بھی خالصتاً بغیر کسی ریا، بغیر کسی کھوٹ کے میرے لئے کر رہے ہو۔ایک شخص اگر رات کو تہجد کی نماز ادا کرتا ہے اور تہجد کی نماز کے بعد نماز فجر سے پہلے کہیں جا کر ڈاکہ ڈالتا ہے۔تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس کی نماز تہجد قبول ہو جائے گی!! اس کی دعا ئیں جو اس نے نماز تہجد میں کی تھیں وہ پوری کی جائیں گی؟؟ یہ مثال مجھے اس وجہ سے یاد آئی کہ قادیان کے قریب ایک گاؤں تھا نگل۔وہاں ایک ڈاکو نمبر ۱۰ رہا کرتا تھا۔رات کے ایک بجے پولیس اسے اس کے گھر جا کر دیکھا کرتی۔ابھی وہ پولیس کا آدمی واپس قادیان نہ پہنچتا تھا کہ یہ چوری کے لئے نکل کھڑا ہوتا۔ایک دن وہ ہماری کوٹھی میں جو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہمیں بنا کر دی تھی، معین سحری کے وقت پہنچا اور ایک چیز چرائی۔ہمارا ایک نوکر تھا اسے جب معلوم ہوا تو یہ بھاگ گیا۔بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ یہ اس شخص کا کام ہے۔تو جو شخص ایک یا دو بجے رات تک شریفانہ طور پر گھر میں وقت گزارتا رہا اور اس کے معا بعد وہ چوری کے لئے نکل گیا تو قانون کی نگاہ میں وہ یقینا چور ہے۔وہ شخص جو رات کو تین گھنٹے تک تہجد کی نماز ادا کرتا رہا پھر دن کو اس نے کسی کا مال غصب کر لیا تو خدا کی نگاہ میں وہ حرام خور ہے تہجد گزار نہیں۔اسی واسطے ہمیں اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب تک ہماری ساری تدابیر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے نیچے نہیں آجاتیں۔اس وقت تک ہماری عبادت خدا کی عبادت کہلانے کی مستحق نہیں ہو سکتی۔حقیقی عبادت اسلام کے نزدیک جیسا کہ اس آیت سے پتہ چلتا ہے۔یہ ہے کہ خالصتاً اس کی اطاعت ہو۔اس کی اطاعت میں کوئی ریا نہ ہو۔تمام احکام الہی کی پیروی کی جائے۔مثبت احکام کی مثبت طریق پر اور منفی احکام کی منفی طریق پر۔فرمایا کہ کوئی زمیندار ہے، کوئی ڈاکٹر ہے، کوئی بارایٹ لاء ہے وغیرہ۔یہ تمہاری تدبیریں ہیں لیکن یا درکھو کہ جب تک تم اپنی تدابیر کو مُخلِصًا لَهُ الدِّین کے ماتحت رکھو گے تو تمہاری عبادتیں قبول ہوں گی اور جب ان میں اخلاص نہ ہوگا اور اطاعت نہ ہوگی تو یقیناً وہ قبول نہ ہوں گی۔(خطبات ناصر جلد اول صفحه ۳۰۶ تا ۳۱۶)