انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 144 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 144

۱۴۴ سورة الزمر تغییر حضرت خلیفتہ امسح الثالث لیکن اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ میں درود تو پڑھتا ہوں لیکن میں آپ کے نمونہ کی پیروی کرنا نہیں چاہتا۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ عبادت نہیں۔فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ دین کے ایک معنی اطاعت بھی ہیں۔فرمایا تمہاری عبادت تب میری حقیقی عبادت کہلائے گی جب تم اس کے ساتھ میرے تمام حکموں پر عمل بھی کرو گے۔اور پھر عبادت خالص ہو یعنی بغیر کسی ریا اور بغیر کسی کھوٹ کے ادا کی گئی ہو۔اخلص کے مفہوم میں عربی زبان کے مطابق دو باتیں پائی جاتی ہیں ایک ریا کا نہ ہونا دوئم کھوٹ کا نہ ہونا۔اخلص الطاعة کے معنی ہیں اس نے اطاعت میں کوئی ریا نہیں برتا۔مثلاً ظاہر میں اللہ اللہ کہا یا ظاہر میں بہت عبادت کی لیکن اس کا باطن اطاعت سے انکار کرتارہا تو یہ اخلاص کے خلاف ہے۔تو فرمایا ہم تمہیں حکم دیتے ہیں۔فاعبد اللہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس نیت سے عبادت کرو کہ جو حکم بھی نازل ہوگا۔ہم اس کو بجالائیں گے اور ہر بات جس سے روکا جائے گا ہم اس سے باز رہیں گے۔پس اللہ تعالیٰ کی عبادت خالص اطاعت کے ساتھ ہی ہو سکتی ہے۔ورنہ اسلام اسے عبادت قرار ہی نہیں دیتا۔اگر لمبی لمبی نمازیں پڑھنے والا فحشاء اور منکر سے باز نہیں آتا تو اس کی نمازیں سچی نمازیں نہ ہوں گی کیونکہ سچی نماز تو فحشاء اور منکر سے روکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایک اور عجیب مضمون بھی بیان فرمایا ہے۔الدین کے معنی تدبیر کے بھی ہیں۔تو فرماتا ہے۔فَاعْبُدِ اللهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ کہ اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ تمہاری تمام تدابیر خالصتاً بغیر کسی ریا اور کھوٹ کے اسی کے لئے ہوں۔اس میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ تدابیر سے منع نہیں کرتا۔وہ یہ نہیں کہتا کہ مال نہ کماؤ وہ یہ نہیں کہتا کہ تجارتیں نہ کرو۔وہ یہ نہیں کہتا کہ زراعت نہ کرو۔وہ یہ نہیں کہتا کہ تم وکالت کا پیشہ اختیار نہ کرو اور فیس نہ لو لیکن وہ یہ ضرور کہتا ہے کہ دنیا کی جو تد بیر بھی تم کرو وہ خدا کے لئے کرو اور خدا تعالیٰ کی اطاعت کا جوا اپنی گردنوں سے نہ اُتارو پھر جب وہ یہ کہتا ہے کہ مال کماؤ تو ساتھ ہی یہ بھی حکم دیتا ہے کہ مال ان طریقوں سے کماؤ جو جائز قرار دئے گئے ہیں۔اور ان طریقوں سے مال نہ جمع کرو جو حرام قرار دئے گئے ہیں۔پھر جب وہ کہتا ہے کہ تم مال خرچ کرو تو ساتھ ہی وہ یہ کہتا ہے کہ اپنا مال ان طریقوں سے خرچ کرو جو جائز قرار دئے گئے ہیں۔اور جو طریق خدا کے نزدیک ناپسندیدہ یا مکروہ