انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 138
تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث ۱۳۸ سورة الزمر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۱۸۶۸ء میں فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے الہاماً بتایا ہے کہ ”بادشادہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“۔( تذکرہ صفحہ ۸ ایڈیشن چہارم) اس وقت آپ کو بھی کوئی نہ جانتا تھا، قادیان کو بھی کوئی نہ جانتا تھا۔جماعت احمدیہ کو بھی کوئی نہ جانتا تھا بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بھی نہ جانتے تھے۔کیونکہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے جماعت کا قیام نہیں کیا گیا تھا۔اور بیعت بھی شروع نہ ہوئی تھی۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ پیشگوئی کی۔اور قریباً سو سال تک مخالف کو موقع دیا کہ جتنا چاہواستہزاء کرلو، مذاق کر لو، ٹھٹھا کر لو، طعنے دے لو۔یہ کلام ہمارا ( عزیز خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوکر رہے گا۔اس سال اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے وہ سامان پیدا کر دیئے۔( دو کم سو سال کے بعد ) جب اس عرصہ میں ایک نیا ملک بنایا گیا۔پھر الہی تدبیر کے ماتحت اس ملک کو آزادی دلائی گئی۔پھر الہی منشاء کے مطابق جب اس ملک کی اپنی حکومت بنی ، تو اس کا سر براہ اور اس کا ایکٹنگ (Acting) گورنر جنرل اس شخص کو مقرر کیا گیا جو تقریر کے دن سے پہلے جماعت احمد یہ گیمبیا کا پریذیڈنٹ تھا۔اس طرح جماعت احمدیہ کے پریذیڈنٹ کو گورنر جنرل بنادیا گیا۔پھر ان کو ہمارے مبلغ نے توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ کی ایک بشارت ہے کہ ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے تم خوش نصیب انسان ہو کہ دنیا کی تاریخ میں تمہیں پہلی دفعہ یہ موقع مل رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے کپڑوں سے تم برکت حاصل کر سکو مگر یہ کوئی معمولی چیز نہیں۔اس لئے قبل اس کے کہ تم اس کے متعلق خلیفہ وقت کو اپنی درخواست بھجواؤ چالیس دن تک چلہ کرو۔یعنی خاص طور پر دعا ئیں کرو۔اس قسم کا چلہ نہیں جو صوفیا اور فقراء کیا کرتے ہیں۔چالیس دن تک خاص طور پر تہجد میں دعا کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں اس بات کا اہل بنائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کپڑوں میں سے ایک ٹکڑا تمہیں ملے۔انہوں نے دعا شروع کی اور پھر مجھے خط لکھا کہ میں دعاؤں میں مشغول ہوں اور اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑا رہا ہوں کہ میں ایک بڑی بھاری ذمہ داری لے رہا ہوں ،صرف عزت حاصل نہیں کر رہا، صرف تبرک حاصل نہیں کر رہا بلکہ بڑی بھاری ذمہ داری بھی لے رہا ہوں۔