انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 137 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 137

۱۳۷ سورة الزمر تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث کئی صفات ہیں لیکن ہم تمہیں اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ وہ العزیز بھی ہے اور لغت عربی میں عزیز اس ہستی کو کہتے ہیں جو صاحب قدرت اور صاحب قوت ہو اور صاحب عزت ہو اور دنیا کی کوئی طاقت اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکتی ہو۔وہ اتنا قوت والا ہو کہ دنیا کی کوئی طاقت اور قوت ایسی متصور نہ کی جا سکتی ہو جو اس کی قوت اور طاقت کے مقابلہ میں کامیابی کے ساتھ اس کے برخلاف کوئی مکر اور حیلہ اور فریب کر سکے۔وہ غالب ہے مغلوب ہو ہی نہیں سکتا۔اور کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی ان صفات میں وہ بے مثل بھی ہے۔یعنی اس کی قوت اور اس کی قدرت اور اس کا غلبہ اور اس کی عزت ایسی ہے کہ دنیا کی کسی اور ہستی کی نہ وہ قوت، نہ وہ غلبہ، نہ وہ طاقت ، نہ وہ شان، نہ وہ جاہ، نہ وہ جلال، کچھ بھی نہیں۔اس ہستی کو عزیز کہتے ہیں۔تو اس آیت میں فرمایا کہ یہ کتاب اس اللہ نے نازل کی ہے جو اس قدر قوت اور طاقت اور عزت والا ہے کہ دنیا کا کوئی مکر اور فریب اس کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔وہ اس مضبوط اور بلند پہاڑ کی چوٹی پر بنے ہوئے قلعہ کی طرح ہے کہ جس تک چڑھنا کسی اور کے لئے ممکن ہی نہیں۔منیع ہے۔یعنی وہ اتنا محفوظ ہے کہ اس کے خلاف کسی سازش کی کامیابی ممکن ہی نہیں ہوسکتی۔تو ہمیں اس کتاب میں صفت عزیز کا ذکر کر کے یہ بتایا کہ اگر تم اس الکتاب پر عمل کرنے والے ہو گے۔اگر تم اس کے احکام کی اطاعت کرنے والے ہو گے تو اللہ جو عزیز ہے تمہیں عزت کے ایسے مقام پر کھڑا کرے گا کہ دنیا کی کوئی طاقت تمہارا مقابلہ نہ کر سکے گی۔اگر تمہاری ترقی کے سامنے ہمالیہ کے پہاڑ بھی حائل ہوں گے تو وہ پاش پاش کر دیئے جائیں گے۔مسلمانوں کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ بالکل بے کسی اور بے بسی کے زمانہ میں جب ان کے پاس نہ عزت تھی ، نہ طاقت تھی، نہ مال تھا اور نہ کوئی اور ظاہری سامان تھے، صرف قرآن کریم ہی تھا جو ان کے ہاتھ میں تھا صرف قرآن کریم ہی تھا جو ان کے دل میں تھا، صرف قرآن کریم ہی تھا جو ان کے عمل میں نظر آ رہا تھا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں غلبہ عطا فرمایا اور ان کے مقابل آنے والی سب طاقتوں کو مٹا دیا اور ایک کم مایہ، بے مایہ، کمزور و ناتواں اور غریب کو تمام دنیا کی طاقتوں کے مقابلہ میں کامیاب و کامران کر دیا۔اس کی ایک تازہ مثال میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اس مثال کا میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ