انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 133
۱۳۳ سورة ص تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث کا عذاب چکھتے ہیں تو اس وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ وہاب بھی ہے۔اُس کی رحمتوں کے جلوے بھی انسان پر آتے ہیں اور نبی کی تو بعثت ہی اس لئے ہوتی ہے کہ رحمت کے جلوے انسان دیکھے تو ان کا ایک حصہ عذاب کے وقت بھی اس طرف توجہ نہیں دیتا۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ عذاب بار بار آتا ہے کچھ لوگ عذاب کی شکل میں آنے والے پہلے ہی امتحان میں کامیاب ہو جاتے ہیں کچھ دوسرے جھٹکے میں ہو جاتے ہیں کچھ تیسرے جھٹکے میں ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ آخری وقت تک انتظار کرتے اور اُن کا ایک حصہ سَيُهُزَمُ الْجَمْعُ وَيُولُونَ الدُّبُرَ القمر : ٢٦) کے نظارے دیکھتا اور پھر وہ فتح مکہ کی شان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دیکھتا ہے وہاں وہ مارا جاتا ہے اور یہاں وہ کہتا ہے کہ آپ ہمیں معاف کر دیں۔فتح مکہ میں ایسا ہی ہوا۔یہ نہیں کہا کہ ہم خدا تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور وہ ہمیں معاف کر دے گا انہوں نے کہا کہ آپ ہم پر رحم کریں اور اسی واسطے اُن کے بعض سرداروں کو بنانے کے لئے کہ اللہ تعالیٰ کتنا رحم کرنے والا ہے۔میں تو اس کا ایک کارندہ ہوں اور اُس کے حکم سے کرتا ہوں جو کرتا ہوں۔اُن سے کہا اچھا تمہارے گھر میں جو داخل ہو جائے گا اُس کو ہم پناہ دیں گے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دو گروہ ہو جاتے ہیں۔ایک مومنوں کا گروہ ہے۔ایک کافروں کا گروہ ہے۔جو کا فر ہیں وہ انکار کرتے ہیں اور حقیقتا اس لئے انکار نہیں کرتے کہ وہ اُس نبی کے منکر ہیں اور پہلوں کے وہ ماننے والے ہیں بلکہ ایک زمانہ گذرنے کے بعد حقیقت یہ ہے کہ قصے رہ جاتے ہیں اور حقیقی ایمان دل میں نہیں ہوتا کیونکہ اگر حقیقی ایمان ہو تو نئے آنے والے پر بھی فوراً ایمان لے آئیں کیونکہ وہی سلوک جو پہلوں سے تھوڑا یا بہت اللہ تعالیٰ کا ہوا وہی سلوک بعد میں آنے والے سے ہوا۔اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالیٰ نے انتہائی پیار کیا۔اس میں شک نہیں لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ پہلے انبیاء سے بھی اللہ تعالیٰ نے پیار کیا۔ان کے حالات کے مطابق ان کے ذریعہ جو ذمہ داریاں اُن کی اُمت کی اُن پر ڈالی گئی تھیں اس کے مطابق پیار کیا لیکن جس نے انتہائی قربانی اپنے پیدا کرنے والے رب کے حضور پیش کی اور جو انتہائی محبت اور عشق کے مقام پر پہنچا اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انتہائی تعلق اور محبت اور پیار کا سلوک کیا لیکن اس کا جو خا کہ بنتا ہے اور جو تصویر بنتی ہے وہ شروع سے ایک ہی ہے کہ خدا تعالیٰ کا پیار نبی اور اس کے ماننے والوں کو حاصل ہوتا ہے۔آدم سے لے کر اس وقت تک ہم نے یہی دیکھا۔