انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 134 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 134

۱۳۴ سورة ص تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو شک ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ذکر نازل بھی ہوتا ہے یا نہیں اور اس شک کی وجہ سے وہ آنے والے کو بھی نہیں مانتے اور حقیقت یہ ہے کہ بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ اُس وقت تک یہ مخالفت کرتے رہیں گے منصوبے بناتے رہیں گے، تکالیف دیتے رہیں گے۔نا کام کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کا جلوہ گرفت کی صورت میں نہیں دیکھیں گے اور اس عرصہ میں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی رحمت کے خزانے صرف ان کو دیئے گئے ہیں اور مومنین کو وہ نہیں مل سکتے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے مومن کو اللہ تعالیٰ ابتلا میں ڈالتا ہے ایک تو اس کا یہ امتحان لیتا ہے کہ جو تربیت خدا تعالیٰ کے نبی اور مامور کے ذریعہ سے اس کی کی گئی ہے وہ تربیت اُس نے حاصل کی یا نہیں۔دوسرے دُنیا کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ دیکھو میرے بندے میری خاطر دنیا کا ہر ظلم سہنے کے لئے تیار ہیں لیکن مجھ سے بے وفائی کرنے کے لئے تیار نہیں۔خدا تعالیٰ اپنے پیاروں کا یہ نظارہ دنیا کو دکھانا چاہتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب عذاب کی شکل میں اس کا حکم نازل ہوتا ہے تو اُس وقت مومن بھی اور کا فر بھی اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک نہیں کہتے اور اُس کے مامورین اور اُس کے انبیاء کو جھٹلاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مختلف پیراؤں میں یہ مضمون قرآن کریم میں بیان کیا اور ہمارے سامنے رکھا ہے۔ماننے والوں کو خدا نے حکم دیا ہے کہ جلدی نہ کرنا اور جو تمہیں دُکھ پہنچانے والے تم پر ظلم کرنے والے تمہیں ہلاک کرنے کی تدابیر کرنے والے تمہیں بے عزت کرنے والے تمہیں حقیر سمجھنے والے ہیں اُن کے لئے دعائیں کرو۔اُن کے لئے یہ دعا کرو کہ وہ عظیم نعمت جو اللہ تعالیٰ کے پیار کی شکل میں تم نے دیکھی اور اس سے مخالف محروم رہے اللہ تعالیٰ اُن کے لئے بھی یہ سامان پیدا کرے۔(خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۵۲۳ تا ۵۲۷)