انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 132 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 132

تفسیر حضرت عایله اسیح الثالث ۱۳۲ سورة ص دوسروں کو نہیں مل سکتے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جو خزانوں کا دینے والا ہے وہ عزیز بھی ہے۔اور وہ وہاب بھی ہے۔یہ لوگ خدائے وہاب کی رحمتوں سے جب حصہ لیتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ عزیز نہیں ور اُس کے مقرب بندے کے مقابلہ میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ خدا عزیز بھی ہے اور جب خدا تعالیٰ کا غالب ہاتھ قہر کا طمانچہ لگاتا ہے تو پھر وہ مایوس ہو جاتے ہیں۔پھر وہ کہتے ہیں کہ خدا وہاب نہیں لیکن مومن خدا تعالیٰ کو وہاب بھی سمجھتا ہے اسی لئے اس کی راہ میں قربانیاں دے رہا ہوتا ہے اُسے معلوم ہے کہ جو ہم قربانیاں دیں گے خدا تعالیٰ کسی کا قرض نہیں رکھتا اُن قربانیوں سے ہزاروں گنا بلکہ بے شمار گنا واپس ( اسی دُنیا میں بھی ) کرتا ہے لیکن جو اس کے مقابلے میں اُخروی زندگی کے معاملات ہیں ان کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں۔اس زندگی اور یہاں کی حسنات اور یہاں کی لذتوں اور یہاں کے آراموں سے بہر حال وہ وہاب خدا کا عرفان بھی رکھتے ہیں لیکن اس حالت میں وہ خدا تعالیٰ سے ڈرتے بھی رہتے ہیں۔اُسے عزیز بھی جانتے ہیں۔اُن کے دل میں تکبر اور غرور نہیں پیدا ہوتا لیکن جو منکر ہے جس وقت خدا تعالیٰ کی رحمت کا سلوک امتحان کے طور پر اس دُنیا میں ابتدائے مخالفت میں اس کے ساتھ کیا جاتا ہے تو وہ خدائے وہاب کو تو پہچانتے ہیں لیکن وہی اللہ جس کی دوسری صفت العزیز بھی ہے اس کو پہچانتے نہیں اور جب خدائے عزیز کی گرفت میں آ جاتے ہیں پھر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے لئے خدا تعالیٰ کی رحمت کا کوئی جلوہ اب ظاہر نہیں ہوگا۔جیسا کہ وہ واقعہ آتا ہے ( میں مختصر بیان کروں گا ) حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تلوار لے کر ایک شخص حملہ آور ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب اُس نے پوچھا کہ اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچانے والا ہے؟ آپ نے فرمایا میرا خدا۔اور اُس پر اتنا رعب طاری ہوا کہ تلوار اُس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور جس وقت تلوار اس کے ہاتھ سے گرمی تو آپ نے اپنی تلوار ہاتھ میں لے کر اُس سے پوچھا تمہیں اب میرے ہاتھ سے کون بچانے والا ہے؟ کہنے لگا آپ ہی رحم کر دیں۔وہ یہ سمجھا ہی نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اگر اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت کے ذریعہ بچانے والا ہے تو اُسے بھی خدا ہی بچانے والا ہے تو جو سبق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس شخص کو سکھانا چاہتے تھے وہ اس نے نہیں سیکھا اور اشارہ نہیں سمجھا۔پس مخالفین جب رحمت کا جلوہ دیکھتے ہیں تو مخالفت میں تیزی دکھاتے ہیں اور جب خدا تعالیٰ