انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 131 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 131

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۱۳۱ سورة ص بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة ص آیت ۱۰۹ وَانْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِّنْ ذكرِى بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ۔یہاں یہی بتایا گیا ہے کہ جب مخالفت شروع ہوتی ہے خدا تعالیٰ کے نبی یا مامور کی تو اس وقت ڈھیل دی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ چونکہ ہم ڈھیل دیتے ہیں اس کے نتیجہ میں تم یہ سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ و تاب تو ہے مگر عزیز نہیں ہے اور شوخیوں میں بڑھ جاتے ہو۔ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے بعثت نبوی اور مخالفانہ منصوبوں اور عذاب کے درمیان اپنی حکمت کا ملہ سے ایک فاصلہ رکھا ہوتا ہے۔ایک زمانہ گذرتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی قہری گرفت پکڑتی ہے۔چونکہ ابھی عذاب کا وقت نہیں آیا ہوتا اس لئے شوخیوں میں یہ آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں اور چونکہ اس زمانہ میں دنیوی حسنات بھی ان کو مل رہی ہوتی ہیں اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے انہی کو خیر دی گئی ہے (اور وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بہت بزرگ ہیں ) اور دنیا کی حسنات اور دنیا کی دولتیں جو انہیں دی گئی ہیں وہ اس لئے دی گئی ہیں کہ ان کے ذریعہ سے آگے تقسیم ہوں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے آم عِنْدَهُمْ خَزَابِنُ رَحْمَةِ رتك اُن کی ذہنیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے صرف اُن کے پاس ہیں کیونکہ جو تبعین ہیں وہ غربت کی حالت میں ہوتے ہیں وہ کسمپرسی کی حالت میں ہوتے ہیں وہ دھتکارے ہوئے ہوتے ہیں اور جو منکرین ہیں ان میں سے اکثر دولت اور اقتدار کے لحاظ سے بڑے بلند دنیوی مقام پر فائز ہوتے ہیں اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے صرف انہی کو مل سکتے ہیں اور