انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 128 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 128

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۲۸ سورة الصفت لگتا ہے کہ اسلام کا عالمگیر غلبہ جو قیامت تک قائم رہنے والا ہے یعنی اس آخری ہلاکت تک جس کے متعلق نوشتے بتاتے ہیں کہ وہ ہلاکت یا قیامت اس وقت آئے گی جب انسانوں کی اکثریت پھر خراب ہو جائے گی اور پھر مکمل تباہی آجائے گی تو پھر کوئی نیا دور شروع ہوگا جس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور نہ ہمیں اس کے متعلق کچھ سوچنے یا کہنے کی ضرورت ہے۔بہر حال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ قیامت تک ممند ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا جو مقصد ہے وہ غالب آئے گا اور نوع انسانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے ہو جائے گی اور اس مقام کو حاصل کرنے اور اس پر قائم رہنے کے لئے کوشاں رہے گی تاکہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہما السلام کی بعد کی اولاد کی طرح ایک وقت میں پھر یہ نہ سننا پڑے کہ تم نے اسلام کے ظاہر کو سب کچھ سمجھ لیا اور اس کی روح تمہارے جسموں سے نکل گئی اور اس کے روحانی جذبات تمہاری روحوں سے غائب ہو گئے اور انہیں یہ خبر نہ سننی پڑے۔اجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجَ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ پس ہمارا یہ فرض ہے اور ہمارے اندر یہ تڑپ ہونی چاہیے کہ ہماری کوئی نسل خدا تعالیٰ کی زبان سے یہ الفاظ نہ سنے کہ تم نے اس چیز کو تو چھوڑ دیا جو اسلام پیش کرتا ہے تم نے اس حقیقت کو تو فراموش کر دیا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف لے کر آئے تھے اور ظاہر پر ہاتھ مارا اور اس پر خوش ہو گئے۔خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر اس سے دوری حاصل کر کے دنیا کے آرام کی خاطر اور دنیا کے مال و دولت اور سونے چاندی کے انبار کے اندر تمہاری توجہ بہک گئی اور وہ جو ایک کل تھا جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا تھا اور جس کے پیار کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا تھا اور جس کے پورے اور کامل اور اعلیٰ اور نہایت حسین پیار کا وعدہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں دیا تھا اسے تم نے بھلا دیا ، خدا کرے کہ ایسا وقت بھی جماعت پر نہ آئے۔خطبات ناصر جلد دهم صفحه ۱۸۹ تا ۱۹۶) افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے صاحبزادے سے یہ پوچھا کہ یہ میں نے خواب دیکھی ہے تو بتاؤ تم کیا کہتے ہو؟ بڑا عجیب جواب ہے جو انہوں نے دیا یہ نہیں کہا کہ اگر آپ نے خدا تعالیٰ کا منشایہ معلوم کیا اپنی رویا میں کہ مجھے ذبح کر دیں تو ذبح کر دیں۔حضرت اسماعیل نے یہ