انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 127
تفسیر حضرت خلیفة امسح الثالث ۱۲۷ سورة الصفت خلاف فتویٰ دے دیا ہے جس کے لئے یہ ساری تیاری ہو رہی تھی جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہوئی تو ان کو مسلمان سمجھنے سے انکار کر دیا اور صابی صابی کہنے لگ گئے۔غرض کتنی زجر ہے اس آیت میں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔اجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجَ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ پھر حالات بدلے اور وہ جو دنیا کا نجات دہندہ تھا اور وہ جو دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا اس کی امت بن گئی۔پھر خدا نے کہا جو قربانی حضرت ابراہیم کی نسلوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کے لئے دی تھی اس سے زیادہ قربانی ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کے قیام اور دنیا کے دلوں میں توحید کو گاڑنے کے لئے امت محمدیہ سے لینی ہے۔صرف ایک نسل نے یہ قربانی نہیں دینی بلکہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل نے اور ایک محدودزمانہ تک نہیں بلکہ رہتی دنیا یعنی قیامت تک قربانیاں دیتے چلے جانا ہے قیامت تک کا میں اس لئے کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے لئے رحمتہ للعالمین بن کر آئے ہیں۔یہ جو میں نے بڑے مختصر الفاظ میں ایک چھوٹی سی تصویر کھینچی ہے اس کے دور نگ ظاہر ہوتے ہیں انتہائی قربانیوں کا ایک رنگ ہے اور اس کی قبولیت کے نقش ہیں۔ان کے اوپر خدا تعالیٰ کی رحمتوں کی جو بارشیں ہوتی ہیں وہ ہمیں تاریخ بتاتی ہے اور پھر دوسرے وقت میں اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکتا ہے جن لوگوں کے آباؤ اجداد نے سینکڑوں سال خدا تعالیٰ کی آواز پر لبيْك لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ کہتے ہوئے اس کی راہ میں قربانیاں دی تھیں ان کی اولا د خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے آجاتی ہے۔خدا تعالیٰ کے آستانہ سے دھتکاری جاتی ہے اور اس وقت دھتکاری جاتی ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ نوع انسانی کے لئے انتہائی انعام مقدر ہو چکا تھا۔اس میں چونکہ جماعت احمد یہ کے لئے سبق ہے۔اس لئے میں نے یہ مختصر مضمون بیان کیا ہے۔غرض یہ میری نسل کا سوال نہیں اور نہ میری ذات کا سوال ہے نہ آپ کی نسل کا سوال ہے اور نہ آپ کی ذات کا سوال ہے۔چونکہ اب آخری فتح اسلام کی مقدر ہے اس لئے نسلاً بعد نسل قربانیاں دینے کا سوال ہے ہمیں یہ بتایا گیا ہے پہلے نوشتوں میں بھی اور قرآن کریم کی آیات سے بھی یہ استدلال ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی آیات کی جو تفسیر بیان فرمائی ہے اس سے بھی یہ پتہ