انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 115 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 115

تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۱۱۵ سورة القت بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الطقت آیت انا زَيَّنَا السَّمَاءِ الدُّنْيَا بِزِينَةِ إِلكَوَاكِبِ اور جو یہ کائنات ہے اس کے متعلق خدا نے کہا سات آسمان اور ایک زمین پر مشتمل جہاں تک انسان کا تعلق ہے وہ ایک زمین باقی تو گرہ گرہ اپنا جانے۔سات آسمان ہوئے نا۔قرآن کہتا ہے کہ : إنا زَيَّنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةِ الكواكب کہ ان سات آسمانوں میں سے پہلا آسمان وہ ہے کہ سارے ستارے اس کے اندر ہیں دوسرا جو آسمان ہے وہاں ستارہ نہیں کوئی سمجھے ستاروں کی جو خو بصورتی آپ کو نظر نہیں آتی۔بارش ہوئی ہوئی ہو اور مطلع صاف ہو بالکل آسمان میں فضا میں گرد وغبار نہ ہو اور دس ستاروں کی جگہ کروڑوں ستارے آنکھ ہماری دیکھ رہی ہو بالکل اور اس کی تصویریں بن رہی ہوں اور ایک پیٹرن ہو خدا تعالیٰ کی عظمت اور شان ہمارے تصور میں۔جہاں تک ہماری نظر پہنچی وہ تو بڑا چھوٹا حصہ ہے نا۔جہاں تک سائنسدانوں کی فلکیات سے تعلق رکھنے والوں کی تحقیق پہنچی وہ یہ ہے کہ یہ جو سماء الدنیا ہے پہلا آسمان اس میں ایک تو قبیلے ہیں ستاروں کے اُس کو یہ کہتے ہیں گلیکسی (Galaxy) اور خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ پہلے آسمان میں ستارے ہیں تو ستاروں کے سارے قبائل پہلے آسمان میں ہیں اور قبیلے کا نام ہے ھیلسی (Galaxy) اور سائنسدان کہتا ہے کہ گلیکسی کے اعداد و شمار نہیں غیر محدود ہیں اُن کے علم کے لحاظ سے غیر محدود اور ہر قبیلے میں اتنے سورج ہیں کہ وہ بھی حد و شمار سے باہر سمجھتے اور یہ سارا پہلا آسمان ہے۔ہماری جو عملی سائنس ہے جہاں ٹیسٹ ہوتے ہیں یا ہماری دُور بینیں دیکھتی ہیں اُن کا تعلق تو پہلے