انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 110
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث 11 + سورة فاطر کو کیا فائدہ پہنچے گا جہاں تک فائدے کا سوال ہے، نہ امیر کی دولت سے خدا تعالیٰ کو فائدہ پہنچتا ہے اور نہ غریب کے پیسہ سے فائدہ پہنچتا ہے۔وہ تو خود مالک ہے تمام دولتوں اور سب اموال کا لیکن جو آدمی خلوص نیت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں بہت دیتا ہے اور یہ سمجھ کر دیتا ہے کہ منافق مجھ پر اعتراض کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدلہ دیتا ہے اور جو آدمی ایک دھیلہ لے آتا ہے یا چوٹی دے دیتا ہے، اسے بھی وہ پیارا احسن جزاء دے دیتا ہے۔( خدا کے مسیح نے ایسے لوگوں کا اپنی کتابوں میں ذکر کر کے کہ فلاں شخص نے خدا تعالیٰ کی راہ میں چوٹی دی، فلاں نے اٹھنی دی، ان کے لئے قیامت تک کے لئے دعاؤں کے سامان پیدا کر دیئے ) - پس جہاں تک خدا تعالیٰ کے فائدے کا سوال ہے نہ امیر کی دولت اور نہ غریب کا دھیلہ اُسے کوئی فائدہ پہنچاتا ہے کیونکہ وہی اصل مالک ہے اور سارے خزانے اُسی کے ہیں اور اسی کے حکم اور اُسی کی مرضی اور اسی کے حکم سے انسان کو بہت ملتا ہے یا تھوڑا ، یہ تو اپنے اخلاص کی بات ہے۔جس کو اس نے بہت دیا اس کا دل یہی کہتا تھا کہ وہ خاموشی کے ساتھ اور کسی کو پتہ لگے بغیر اس کی راہ میں خرچ کرتا تو اچھا تھا مگر قرآن نے اسے کہا کہ علانیہ یعنی ظاہری طور پر خرچ کرو۔منافق اعتراض کرے گا اور اس کی منافقت کا بھانڈا پھوٹے گا۔شیطان تمہارے اوپر وار کرے گا۔وہ تمہارے اندر کبر اور ریاء پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔ایک اور میدان میں تمہیں خدا تعالیٰ کی راہ میں شیطان کے ساتھ جنگ کرنی پڑے گی۔خلوص نیت ہے تو شیطان کامیاب نہیں ہوگا اور تمہارے لئے برکتوں کا سامان پیدا ہو جائے گا۔غریب سے کہا کہ دھیلہ یا چوٹی دیتے ہوئے نہ گھبراؤ۔خدا کے خزانے جو ہیں اُن کے مقابلے میں چونی اور چار ارب روپیہ برابر ہے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن دنیا پر یہ ظاہر کرو کہ جہاں دُنیا دار غریب فساد کا موجب بنتا ہے وہاں مسلمان غریب دُنیا میں نیکی کے قائم کرنے کی بنیاد رکھ رہا ہوتا ہے اگر اس کے پاس چوٹی ہے تو اسے فساد کے دُور کرنے پر خرچ کر دیتا ہے اگر اس کے پاس ایک پیسہ ہے نیکیوں پر خرچ کرنے کے لئے تو وہی خرچ کر دیتا ہے۔نہ وہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ مجھ پر جنسی ہوگی اور نہ اُسے یہ خوف ہے کہ میں ایک پیسہ دے رہا ہوں میرے پیسے کا کیا نتیجہ نکلے گا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے تو میرے ساتھ تجارت کر رہا ہے یہ نہ دیکھ کہ تو نے ایک دھیلہ یا چوٹی دی ہے بلکہ یہ دیکھ کہ میں تجھے اس