انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 111
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث سورة فاطر کے مقابلے میں کیا دیتا ہوں۔پس جس طرح ستر آخرچ کرنا ضروری ہے اسی طرح علانیہ خرچ کرنا بھی ضروری ہے یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے یہ مومن کی نشانی بتائی گئی ہے۔(خطبات ناصر جلد ۳ صفحه ۴۸۵ تا ۴۸۸) اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ مومن خدا کی راہ میں اپنے اموال خرچ کر کے گو یا اللہ تعالیٰ سے ایسی تجارت کرتے ہیں جن میں نقصان کا کوئی اندیشہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بہت زیادہ نفع بھی دیتا ہے۔چنانچہ جماعت نے جو رقم دی وہ بھی گو اللہ تعالیٰ سے تجارت کے مترادف ہے لیکن جب وہ رقم ہمارے پاس آئی تو میں نے سوچا کہ اس رقم سے بندوں سے تجارت کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے تجارت کی جائے۔یعنی انفرادی حیثیت میں بھی وہ ایک تجارت ہے۔قرآن کریم نے بھی اس کا نام تجارت رکھا ہے اور یہ ایک ایسی تجارت ہے جس میں پیسے کے ضائع ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔نفع کی بعض شکلیں ہیں جن کے ضائع ہونے کا تو کوئی خطرہ نہیں لیکن جن کے جائز ہونے کا کوئی سوال نہیں ہے لیکن جو تجارت ہے اس میں دونوں چیز میں ساتھ لگی ہوئی ہیں۔اس میں نفع بھی ملتا ہے اور بعض دفعہ نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔پیسے بھی ضائع ہو جاتے ہیں یعنی سرمایہ بھی جاتا رہتا ہے لیکن روحانی دنیا میں انسان اللہ تعالیٰ سے ایک ایسی تجارت کرتا ہے جس میں لَن تبور کی رو سے گھاٹا نہیں پڑتا ، جس میں پیسے ضائع ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ جو عام نفع ہے وہ بھی ملتا ہے۔پس فرمایا لو فيهم أجُورَهُمْ یعنی معمول کے مطابق جو نفع ہوتا ہے وہ بھی تمہیں اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا لیکن وہ اسی پر بس نہیں کرے گا۔دنیا میں ڈیویڈنڈ (Dividend) دینے والی جو کمپنیاں ہیں وہ کوئی پانچ فیصدی کوئی آٹھ فیصدی کوئی دس فیصدی کوئی بارہ فیصدی یا زیادہ سے زیادہ پندرہ فیصدی نفع دینے کا اعلان کرتی ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے فرمایا یہ بھی میں دوں گا اس کے علاوہ جو بندوں کا معمول نہیں اور جو نفع دینے کا میرا معمول ہے وہ بھی میں دوں گا۔اگر تمہارا اخلاص غیر معمولی اخلاص ہو گا تو میری طرف سے تمہارے اموال میں غیر معمولی زیادتی بھی ہوگی۔میں تمہیں بہت زیادہ مال دوں گا۔خطابات ناصر جلد اول صفحه ۵۶۳ ވ