انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 107 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 107

1+2 سورة فاطر تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث آگئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنا نصف مال لے کر آگئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میری یہ پیشکش قبول کر لی جائے کہ میں دس ہزار صحابہ کا پورا خرچ برداشت کروں گا اور اس کے علاوہ آپ نے ایک ہزار اونٹ اور ستر گھوڑے دیئے اسی طرح تمام مخلص صحابہ نے اپنی اپنی توفیق اور استعداد کے مطابق مالی قربانیاں پیش کیں اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بہترین نتائج نکالے۔ایک موقع پر ایک نو مسلم قبیلہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ گیا اور ان کو آباد کرنے کا سوال تھا وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر آئے ہوں گے کیونکہ ان دنوں وہاں بھی مخالفت بہت زیادہ تھی جیسا کہ کبھی کبھی ہر زمانہ میں اسلام کے خلاف ہر ملک میں مخالفت پیدا ہوتی رہتی ہے اور مومن ان مخالفتوں کی پرواہ نہیں کیا کرتے کیونکہ ان کا بھروسہ اللہ پر ہوتا ہے دنیوی سامانوں پر نہیں ہوتا بہر حال ایک قبیلہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آیا تو ان کے آباد کرنے کے لئے مال کی ضرورت تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو مالی قربانیاں پیش کرنے کی تلقین کی آپ کی اس اپیل کے نتیجہ میں ہر شخص نے یہ سوچا کہ میرے پاس جو چیز زائد اور فاضل ہے وہ میں لاکر پیش کر دوں لیکن فاضل کے معنی انہوں نے وہی کئے تھے جو ایک مومن کیا کرتا ہے انہوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ہمارے پاس دو درجن کوٹ ہونے چاہئیں اور پچاس قمیصیں ہونی چاہئیں اور ایک دو پھٹی پرانی قمیصیں جو بریکار پڑی ہیں اور استعمال میں نہیں آتیں وہ لا کر دے دی جائیں بلکہ ان میں سے اگر کسی کے پاس کپڑوں کے دو جوڑے تھے تو اس نے کہا میں ایک جوڑے میں گزارہ کر سکتا ہوں دوسرا جوڑ از ائد ہے چنانچہ اس نے وہ جوڑا پیش کر دیا۔ایک صحابی کے پاس کچھ سونا تھا انہوں نے یہ سوچا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا یہ عمدہ موقع ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت ہمارے سامنے رکھی ہے اور ہمیں تلقین فرمائی ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال خرچ کریں چنانچہ وہ اشرفیوں کا ایک تو ڑا ( جو وہ اچھی طرح اٹھا بھی نہیں سکتے تھے ) لے آئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا اور اس طرح غلہ کپڑوں اور روپے کے ڈھیر لگ گئے اور خدا تعالیٰ نے مومنوں کے اس ایثار کے نتیجہ میں ایک پورے قبیلہ کی جائز ضرورتوں کو پورا کرنے کے سامان کر دیئے۔ان دو واقعات کے بیان کرنے سے اس وقت میری یہ غرض نہیں کہ میں یہ بتاؤں کہ صحابہ کرام کس قسم کی قربانیاں کیا کرتے تھے بلکہ میری غرض یہ بتانا ہے کہ ان قربانیوں کے پیچھے جس روح کا