انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 108 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 108

I+A سورة فاطر تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث صحابہ کرام نے مظاہرہ کیا تھا وہ کیا تھی؟ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے اور ان مثالوں سے صاف ظاہر ہے کہ ان قربانیوں کے پیچھے جو روح تھی وہ یہ تھی کہ نَحْنُ الْفُقَرَاء إِلَى اللَّهِ ہم اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اور اللهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ اللہ کوکسی کی احتیاج نہیں تمام تعریفوں کا وہ مالک ہے ہمیں اپنی دنیوی اور اُخروی ضرورتوں کے لئے یہ قربانیاں دینی چاہئیں اور دنیوی اور اُخروی انعاموں کے حصول کے لئے ان قربانیوں کا پیش کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔دو ان مثالوں سے روز روشن کی طرح یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحابہ کے اندر جو روح تھی وہ یہ تھی کہ وه الْفُقَرَاءُ إِلَی اللہ ہیں منافق ہر جگہ ہوتے ہیں اس وقت میں ان کی بات نہیں کر رہا ان میں سے جو مخلص اور ایثار پیشہ تھے اور بھاری اکثریت انہی لوگوں کی تھی ان کی زبان پر یہودیوں کی طرح یہ نہیں آتا تھا کہ اِنَّ اللهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِی بلکہ ان کی زبان پر یہ تھا، ان کے دل میں یہ احساس تھا اور ان کی روح میں یہ تڑپ تھی کہ وہ الْفُقَرَاء إِلَی اللہ ہیں نہ ان کی کوئی مادی ضرورت پوری ہو سکتی ہے اور نہ روحانی جب تک کہ اللہ تعالیٰ ان کی ضرورت کو پورا نہ کرے غرض جس سے ہم نے ہر شے کو حاصل کرنا ہے اس کی رضا کے حصول کے لئے پانچ روپیہ یا پانچ لاکھ روپیہ قربان نہیں کیا جا سکتا؟ میں نے صحابہ کی ایک مثال دی ہے کہ جس کے پاس دو جوڑے کپڑے تھے اس نے ایک جوڑا کپڑے پیش کر دیئے تفصیل تو نہیں ملتی لیکن یہ امکان ہے کہ ان میں سے کسی کو اس قربانی کی توفیق ملی ہو اور اس کے بعد وہ مثلاً فوت ہو گیا ہو اور مزید قربانی کا اسے موقع نہ ملا ہوا سے تو اس قربانی کے نتیجہ میں اُخروی انعامات مل گئے لیکن اس کی اولاد کو اس ایک جوڑے کپڑوں کے نتیجہ میں اتنے اموال دیئے گئے کہ اگر وہ چاہتے تو اس قسم کے ایک ہزار جوڑے بنا لیتے۔پس ہم خدا تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ہم فقیر ہیں۔خدا تعالیٰ ہمارا محتاج نہیں۔آیت ۳۱،۳۰ اِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَبَ اللهِ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا خطبات ناصر جلد ۲ صفحه ۳۴۰ تا ۳۴۳) وریوو و - رَزَقْنَهُمْ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ لى لِيُوَفِّيَهُم أجُورَهُـ يَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّهُ غَفُورٌ شَكُورٌ۔وَ قرآن کریم نے ہمیں مخفی اور ظاہری صدقات کے متعلق حکماً فرمایا ہے۔ظاہری اس لئے کہ ایک تو