انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 86
تغییر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۸۶ سورة الانعام رکھیں کہ دنیا میں مختلف رنگوں میں اتباع کی جاتی ہے کسی جگہ ڈر کے، کسی جگہ اپنے فائدہ کے لئے کسی جگہ چھپ کر اور کسی جگہ ظاہر ہو کر کسی جگہ تھوڑی کسی جگہ بہت لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا حکم دیا گیا تو صحابہ نے کس رنگ میں اس کو لیا اور کس رنگ میں اطاعت کی اس کا نظارہ ہمیں جنگ حنین کے موقع پر نظر آتا ہے اس وقت بعض نئے اسلام لانے والے اور بعض وہ جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے مسلمانوں کی فوج میں شامل ہو گئے تھے اور جنگ کے دوران ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ وہ بھاگے اور ساتھ ہی ان کے مسلمانوں کی سواریاں بھی بھاگیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قریباً تنہا رہ گئے صرف چند آدمی آپ کے ساتھ تھے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس سے کہا کہ ان کو میری طرف سے آواز دو آپ نے فرمایا کہ عباس بلند آواز میں پکار کر کہو کہ اے وہ صحابہ جنہوں نے حدیبیہ کے دن درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور اے وہ لوگو جو سورۃ بقرہ کے زمانہ سے مسلمان ہو خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے حضرت عباس نے نہایت ہی بلند آواز سے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام سنایا تو اس وقت صحابہ کی جو حالت تھی اس کا اندازہ صرف انہی کی زبان سے حالات سن کر لگایا جاسکتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم اونٹوں اور گھوڑوں کو واپس لانے کی کش مکش میں تھے۔سواریاں بدک گئی تھیں اور واپس نہیں جاتی تھیں لگام کھینچتے تھے ادھر منہ نہیں کرتی تھیں کہ حضرت عباس کی آواز ہمارے کانوں میں پڑی۔اس وقت ہمیں یوں معلوم ہوا کہ ہم اس دنیا میں نہیں بلکہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہیں اور اس کے فرشتے ہم کو حساب دینے کے لئے بلا رہے ہیں۔تب ہم میں سے بعض نے اپنی تلوار میں اور ڈھالیں اپنے ہاتھوں میں لے لیں اور دوڑتے ہوئے اونٹوں سے کود پڑے اور ڈرے ہوئے اونٹوں کو انہوں نے خالی چھوڑ دیا کہ جدھر چاہیں چلے جائیں اور بعض نے اپنی تلواروں سے اپنے اونٹوں کی گردنیں کاٹ دیں۔وہ بڑی تیزی سے جار ہے تھے اور ان پر سے وہ چھلانگ نہیں لگا سکتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی ادھر آؤ تو انہوں نے تلوار نکالی اور اونٹ کی گردن کاٹ دی پھر اونٹ گرا تو وہ اتر کر دوڑتے ہوئے میدان جنگ میں پہنچے اور خود پیدل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے۔اس دن انصار اس طرح دوڑتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جارہے تھے جس طرح اونٹنیاں اور گائیں اپنے بچوں کی آواز سن کر ان