انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 80 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 80

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۸۰ سورة الانعام بدی اور بد عملی سے چمٹے ہوئے ہیں۔اُن سے اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹلا یا نہیں جاسکتا۔انہیں خدا کا عذاب بہر حال چکھنا پڑتا ہے۔جیسا کہ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةِ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہاں مکذبین کے ساتھ مصدقین کا بھی ذکر کیا گیا ہے وہاں مجرم کا لفظ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ منکر کافر کے ساتھ مفسد منافق کا بھی ذکر ہے۔ورنہ یہ کہا جاتا کہ لا يُرَدُّ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ مگر قرآن کریم نے ایسا نہیں کہا۔عربی زبان میں مجرم ایسے شخص کو کہتے ہیں جو مکر وہ اعمال بجالاتا ہے۔جو آدمی کا فرمنکر ہے اُس کے بُرے اعمال اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ وہ زبان سے بھی اور اعتقاداً وعملاً بھی شریعت محمدیہ پر ایمان نہیں رکھتا۔لیکن ایک گروہ وہ ہے جو قولاً یہ کہتا ہے اور جس کی زبان یہ تسلیم کرتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی کامل شریعت قرآن کریم کی شکل میں نازل ہوئی ہے لیکن وہ اس پر دلی اعتقاد نہیں رکھتا اس لئے وہ فسق و فجور میں مبتلا ہوتا اور شریعت کے احکام کو پیٹھ پیچھے پھینک دیتا ہے۔پس لا يُرَدُّ بَاسُه عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ میں وہ مکذب بھی شامل ہے جو نہ زبان سے تصدیق کرتا ہے اور نہ دل سے اس پر اعتقاد رکھتا ہے اور اس میں مکذبین کا وہ گروہ بھی شامل ہے جو زبان سے تو تصدیق کرتا ہے لیکن دل سے تکذیب کرتا ہے اور فسق و فجور میں مبتلا رہتا ہے اور یہ منافق کا کام ہے چونکہ ایک کافر کے قول اور اس کے فعل میں تضاد نہیں ہوتا۔مکذب کافر اور منکر زبان سے بھی صداقت کا انکار کرتا ہے اور پھر اسی کے مطابق اس کے عقائد اور اعمال بھی ہوتے ہیں کیونکہ خود تضاد بھی انسانی زندگی کا ایک بہت بڑا گناہ ہے۔اس لئے کا فر کا تضاد کے گناہ سے بچنا اُسے یہ فائدہ دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ایک وجہ بغاوت و فساد کے نہ ہونے کی وجہ سے اس کے لئے جہنم کا سب سے نچلا درجہ مقرر نہیں کرتا لیکن جو آدمی منافق ہے وہ زبان سے تو کہتا ہے میں ایمان لا یا مگر دلی اعتقاد کے فقدان کی وجہ سے اس کے فسق و فجور میں مبتلا ہونا بتاتا ہے کہ وہ ایمان نہیں لایا اور ریا کے طور پر بظاہر کچھ نیک اعمال بھی بجالاتا ہے لیکن حقیقی نیکی اس سے اتنی ہی دور ہوتی ہے جتنی زمین آسمان سے دُور ہے۔اس لئے اس آیت سے ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ یہ تضاد والا جو گناہ ہے اس کو خدا تعالیٰ نے نظر انداز نہیں کیا۔چنانچہ اِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (النساء :۱۴۶) کو اس آیت کے ساتھ ملا کر معنی کریں تو ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ اگر چہ منافق آدمی مکذب منکر اور کافر کے ساتھ اعتقادا اور عملاً