انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 76
۷۶ سورة الانعام تغییر حضرت خلیفہ المسیح الثالث که لا تدركه الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ تمہارے حواس اس کو حاصل نہیں کر سکتے تم اس کو سمجھ نہیں سکتے۔تم اس کی معرفت حاصل نہیں کر سکتے جب تک خود خدا تعالیٰ اپنے موجود ہونے کو اپنے کلام سے ظاہر نہ کرے جیسا کہ اس نے اپنے کام سے ظاہر کیا ہے لیکن انسان کو چونکہ معرفت الہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اس بعد کو جو خالق اور مخلوق کے درمیان ہمیں نظر آتا ہے، اپنے کلام یعنی مکالمہ ومخاطبہ سے پاتا ہے اور پھر اس کے مکالمہ ومخاطبہ کے ساتھ تعلق رکھنے والے آسمانی نشان ہیں اور وہ زندہ تجلیات ہیں جن کو اپنے بندوں کے حق میں ظاہر کرتا ہے اور پیش خبر یاں ہیں جو اپنے بندوں کو وقت سے پہلے بتا تا ہے۔تب انسان اللہ تعالیٰ کی زبر دست قدرت کا ہاتھ اپنی زندگی میں دیکھتا ہے اور پھر یہ فاصلے جو خالق اور مخلوق کے درمیان واقع ہیں وہ معرفت الہی کے حصول کے لئے سکڑ جاتے ہیں اور انسان خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لیتا ہے۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحہ ۲۱۰،۲۰۹) آیت ١٠٦ وَكَذَلِكَ نُصَرِفُ الْأَنْتِ وَلِيَقُولُوا دَرَسَتَ وَلِنُبَيِّنَةُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ا قرآن کریم نے خود اس مضمون کو بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كَذَلِكَ نُصَرِفُ الْأَيْتِ وَ لِيَقُولُوا دَرَسَتَ وَ لِنُبَيِّنَةَ لِقَوْمٍ يُعْلَمُونَ یعنی ہم نے قرآن کریم کی آیتوں کو کئی طرح پھیر پھیر کے دنیا کے سامنے رکھا ہے۔ایک نصرف الأبيتِ تو اس طرح ہے کہ مختلف طبائع کو اپیل کرنے والی جو باتیں تھیں وہ مختلف طبائع کے لحاظ سے قرآن کریم نے بیان کر دیں تا کہ کوئی طبیعت خدا کے حضور یہ نہ کہے کہ میری فطرت کو تو تو نے ایسا پیدا کیا تھا لیکن اس کے مطابق مجھے دلیل نہیں دی گئی اور ایک یہ ہے کہ زمانہ کی ضرورت کے مطابق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سے نئے سے نئے دلائل اور نئے سے نئے حجج اور براہین لوگوں کو بتاتارہتا ہے اور جن کو وہ یہ دلائل اور براہین سکھاتا ہے انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل خلقی طور پر معلم بنادیتا ہے اور اس معلم کا کام یہ ہے کہ درست تو لوگوں کو سکھلا دے ان کے سامنے بیان کر دے لیکن صرف یہ درس کافی نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلِنُبَيِّنَةُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ اور اس کے علاوہ ایک اور سلسلہ ہم نے یہ جاری کیا ہے کہ ایسے علماءر بانی پیدا ہوتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی خشیت سے معمور اور اس کے تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر قائم ہوتے ہیں اور لنبيِّنَةُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ اللہ تعالیٰ ایسے علماء کی جماعت