انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 71
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ود اے سورة الانعام يُحبكم الله (ال عمران : ۳۲) میرے اسوہ پر چل کر خدا تعالیٰ کا جو پیار تمہیں حاصل ہوتا ہے، اسے دیکھو۔ان چیزوں کو دیکھو اور اپنے خدائے واحد و یگانہ جو بڑا رحم کرنے والا اور رپ کریم ہے کی طرف واپس لوٹ کے آؤ۔دوری کی راہوں کو اختیار نہ کرو۔ایک اور بات ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ ظاہر ہونے والے بینہ اور بصائر ہزاروں نشان دیکھتے اور ان کو جھٹلاتے ہیں اور ہزاروں نشانوں کو جھٹلانے کے بعد پھر قسمیں بھی کھاتے ہیں کہ اگر کوئی نشان آ جائے تو ہم مان لیں گے مگر نشان ہماری مرضی کا ہو۔۔۔۔۔۔پس ہمیں ایک بات ان آیات میں یہ نظر آتی ہے کہ ہمیں بتایا گیا کہ ہزار ہا ہزار ہا ہزار ہا نہیں میں کہوں گا کہ لکھوکھہا نشان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے اور آپ کی عظمت کے دکھائے گئے جو انہوں نے دیکھے اور دیکھے بھی اور جھٹلایا بھی اور پھر قسمیں بھی کھاتے ہیں کہ ہماری مرضی کا کوئی ایک نشان آجائے تو ہم مان جائیں گے۔ایک اور بات۔ہمیں یہ کہا گیا کہ یہ لوگ خدا پر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔اپنی مرضی منوانا چاہتے ہیں۔خدا پر تو کوئی شخص اپنی مرضی ٹھونس نہیں سکتا اور اگر یہ لوگ یہ کوشش کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حکومت میں دخل اندازی کریں اور اسی کی حکمت میں اپنی آراء کے مطابق ہیر پھیر کریں تو یہ تو نہیں ہوگا، ہو گا وہی جو خدا چاہے گا اور ہو گا اسی وقت جب خدا چاہے گا۔کسی کے کہنے پر خدا کوئی نشان کسی مقام پر کسی زمانے میں نہیں دکھایا کرتا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا نے اپنی مرضی سے اپنی حکمت کاملہ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پچھلے چودہ سو سال میں نشان نہیں دکھائے یا محدودنشان دکھائے ایک اور بات یہ کہ مرضی خدا ہی کی چلے گی جس نشان کو چاہے گا ظاہر کرے گا جس نشان کو۔۔۔۔۔۔چاہے گا ظاہر نہیں کرے گا۔ایک اور بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جہاں بشارتیں ہیں وہاں انذاری پیشگوئیاں بھی ہیں۔گرفت کی پیشگوئی بھی ہے۔وہاں عذاب کی پیشگوئی بھی ہے یہ جلدی کر رہے ہیں کہ جلدی آجائے عذاب۔عذاب تو آئے گا مگر جب عذاب آئے گا تو ان کے کہنے کی وجہ سے نہیں آئے گا بلکہ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے انذار کی وجہ سے آئے گا۔جب عذاب آیا، ایک رنگ میں ان کا اپنا مطالبہ بھی پورا ہو گیا کہ یہ کہہ رہے ہیں جلدی آ جائے۔جلدی نہیں آئے گالیکن عذاب آئے