انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 70
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة الانعام ترساں اپنی زندگی کے دن گزارنے چاہئیں۔خدا تعالیٰ جب چاہے گا جو چاہے گا جس رنگ میں چاہے گا اپنے حکم کو جاری کرے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مخالفین کے درمیان وہ جب فیصلہ کرے گا تو اس کا جو فیصلہ ہوگا وہ خَيْرُ الفصلِینَ کا فیصلہ ہوگا۔وہ بہترین فیصلہ ہوگا وہ نوع انسانی کی بھلائی کا فیصلہ ہوگا۔وہ ایک ایسی ہستی کا فیصلہ نہیں ہوگا جو اپنے علم میں کمزور جو اپنی طاقت میں کمزور جو اپنی حکمت میں کمزور جو اپنی رحمت میں کمزور بلکہ اس عز وجلت کا ہوگا جو رحمتی وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷) کہنے والا ہے جس نے خَيْرُ الْفَصِلِینَ اپنے متعلق کہا۔وہ اس کا ہو گا جس نے کہا کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: ۵۷) کہ اصل غرض تو تمہاری پیدائش کی یہ ہے کہ تم میرے بندے بنو۔میرے ساتھ زندہ تعلق قائم کرو۔نویں بات دوسری آیت سے ہمیں یہ پتا لگتی ہے کہ خدا جانے تمہیں کیا ہو گیا ہے۔بصائر آچکے آنکھیں کھولنے والے روشن نشان ظاہر ہوئے اور تمہیں نظر نہیں آرہے۔دسویں بات ہمیں یہ پتالگتی ہے کہ ان روشن نشانوں کو شناخت کرنے میں تمہارا اپنا فائدہ ہے کسی اور کا فائدہ نہیں اور اگر تم آنکھیں رکھتے ہوئے اندھے ہو جاؤ تو جو اندھا ہوگا وہ خود اپنا نقصان کرے گا۔کسی اور کا نقصان نہیں کرے گا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت سے انکار پہلی نسل سے لے کر قیامت تک کی انسانی نسلوں تک جو ہے اس کا نقصان منکرین کو پہنچے گا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو، آپ کی تعلیم کو، آپ کی بشارتوں کو، آپ کے مانے والوں کو ، خدا تعالیٰ کی جو رحمتیں آپ کے ماننے والوں پر آپ کے طفیل نازل ہو رہی ہیں ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔جو اندھا ہوگا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات کو دیکھ نہیں سکے گاوہ اپنا نقصان کرے گا۔ایک اور بات یہ کہ میں تم پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا گیا، محافظ نہیں ہوں ، رسول ہوں۔ایک پیغام خدا نے میرے ذریعہ سے تم تک پہنچانا چاہا میں نے تمہیں پہنچادیا۔خدا تعالیٰ نے اس تعلیم کے لئے دنیا کے سامنے ایک بہترین نمونہ قائم کرنا چاہا اور خدا نے توفیق دی مجھے کہ میں تمہارے لئے اسوۂ حسنہ بن جاؤں۔ایک حسین تعلیم ایک حسین وجود میں عملی رنگ میں تمہیں نظر آتی ہے۔نگہبان اور محافظ نہیں ہوں رسول ہوں اور اُسوہ ہوں۔میری تعلیم کو دیکھو، میرے اعمال کو دیکھو۔میری اس تعلیم کے نتیجہ میں انسان کو جو خدا تعالیٰ کے نعماء ملتے ہیں ان کو دیکھو۔اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي