انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 67
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۷ سورة الانعام ایک وجود کو منتخب کیا اور اس قدر عظیم صلاحیتیں اور استعداد میں اسے عطا کیں کہ جس قدر عظیم صلاحیتیں اور استعدادیں کسی اور کو عطا نہیں ہوئی تھیں اور افضل الرسل اور خاتم الانبیاء کی حیثیت میں اسے بھیجا تو ربوبیت کرنے والے رب کی طرف اپنی رسالت کو یہاں منسوب کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے تا کہ اس چیز کو نمایاں کیا جائے کہ عظمت والا ایک رسول ہوں اور عظمت والے وہ نشان ہیں جو خدا تعالیٰ نے میری صداقت پر قائم کئے ہیں۔وَ كَذبتم بہ اور اس کے باوجود تم ہو کہ تم انکار کر رہے ہو۔پہلی بات یہ کہ مجھے میرے رب نے بھیجا۔دوسری بات ہمیں یہ پتا لگتی ہے کہ میرے رب نے ثبوت دے کر بھیجا بے ثبوت نہیں بھیجا اور یہ ثبوت جو ہے آپ کی صداقت کا ، یہ ایک دو دلائل یا چند ایک نشانوں پر مشتمل نہیں بلکہ دلائل کے لحاظ سے اس قدر ز بر دست دلائل کہ نہ صرف ان انسانوں کی ذہنی تسلی کے لئے کافی تھے جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا بلکہ بعد میں آنے والے جو بدلے ہوئے حالات میں بدلے ہوئے دماغ اور ذہن رکھنے والے تھے ان کو بھی کنونس (Convince) کرنے ، باور کروانے کی طاقت رکھنے والے دلائل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے ہمیں قرآنِ عظیم میں ملتے ہیں۔تو دوسری حکمت صفت ربّ کے استعمال کی ہمیں یہاں یہ نظر آتی ہے کہ مجھے ربوبیت عالمین کے لئے بھیجا ہے اس لئے قیامت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا سامان اس تعلیم میں رکھ دیا گیا ہے جو قرآن عظیم کے ذریعہ مجھے دی گئی اور جس کو قیامت تک کے انسانوں تک پہنچانا میرا اور میرے ماننے والوں کا کام ہے۔تیسری بات ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ ان کھلے دلائل کے باوجود تم میری تکذیب کر رہے ہو۔تمہاری اپنی بھلائی کیلئے تمہاری اپنی رفعتوں کے لئے ، تمہاری عزتوں کے قیام کے لئے، خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے، ایک زندہ خدا سے زندہ تعلق قائم کرنے کے لئے یہ تعلیم آئی۔تمہاری بھلائی دنیوی بھلائی اور اُخروی بھلائی) کے سامان بھی اس میں تھے۔اتنی عظیم تعلیم ، اتنی حسین تعلیم ، اتنی مفید تعلیم تمہیں زمین سے اٹھا کر اس قدر رفعتوں تک پہنچانے والی تعلیم تمہارے پاس آئی لیکن تم ہو کہ پھر تم تکذیب کر رہے ہو۔چوتھی بات ہمیں ان آیات میں یہ نظر آتی ہے کہ یہ تعلیم جو ہے اس میں بشارات بھی ہیں اور انداری پیشگوئیاں بھی ہیں تو عجیب ہو تم (منکر اور کافر) کہ جو عظیم بشارتیں یہ تعلیم لے کر آئی ان کی