انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 68 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 68

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۸ سورة الانعام طرف تم توجہ نہیں دیتے اور ایک ہی رٹ لگائی ہوئی ہے۔کہتے ہو کہ خدا تعالیٰ وہ وعدہ جو ہمارے کفر اور انکار پر ہمیں عذاب دینے کا ہے وہ وعدہ کیوں نہیں پورا کرتا۔ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا۔تم یہ نہیں کہتے کہ خدا تعالیٰ نے پیار کے جو وعدے ہم سے کئے ہمیں زمین سے اٹھا کر آسمان کی رفعتوں تک پہنچانے کے جو وعدے کئے وہ ہماری زندگیوں میں پورے ہوں اور ہم اس دنیا کی جنتوں سے بھی حصہ لیں اور اُخروی زندگی کی جنتیں بھی ہماری قسمت میں لکھی جائیں بشارتوں کی طرف تم توجہ نہیں کرتے اور اتنی عظیم تعلیم ، اس قدر وسیع اور اس قدر ارفع اور اس قدر عظیم بشارتوں کو چھوڑ کے تم کہتے ہو۔(مَا تَسْتَعْجِلُونَ ) کہ ہم پر جلد تر عذاب کیوں نہیں آتا۔ہم نے انکار کیا تمہارا، تو خدا ہمیں پکڑتا کیوں نہیں، ہمیں ہلاک کیوں نہیں کرتا تم بشارتوں کی طرف توجہ نہیں کرتے اور خدا کی گرفت اور اس کی قہری تجلی کے متعلق مطالبہ کرتے ہو کہ وہ قہری تجلی جلد تم پر نازل ہو اور تمہیں جلا کر رکھ دے۔پانچویں بات ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں عذاب دینا یا ڈھیل دینا یہ میرے اختیار میں نہیں۔میں رسول ہوں۔میں پیغامبر ہوں۔دوسری جگہ فرمایا کہ ہمارے رسول پر البلاغ کے سوا اور کچھ نہیں۔پہنچادینا اس کا کام ہے۔آپ کہتے ہیں میرا کام ہے پہنچادینا، میں پہنچا دوں گا، میرا کام ختم ہو جائے گا۔تم عذاب ما نگتے ہو۔عذاب دینا میرا اختیار نہیں۔تم کہو کہ ساری بشارتیں تمہارے حق میں پوری ہو جا ئیں خواہ تم اعمال صالحہ بجالا و یا نہ بجالا ؤ۔اپنے رب کریم کو خوش کرنے میں کامیاب ہو یا نہ ہو، یہ بھی میرے اختیار میں نہیں۔تمہیں عذاب دینا یا ڈھیل دینا میرا کام نہیں۔تم اپنی گمراہیوں میں بڑھتے چلے جاؤ اور خدا اپنی نرمی کے جلوے تم پر ظاہر کرتا چلا جائے ، یہ اس کی مرضی ہے تم جانو اور تمہارا خدا۔میرے اختیار میں نہیں ہے یہ۔ان معاملات میں حکم صادر کرنا اس بالا ہستی کا کام ہے اِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ حکم اسی کا چلتا ہے، جو صاحب حکم بھی ہے اور صاحب حکمت بھی ہے۔اس کے سارے کام حکمت سے ہیں حکمت سے خالی نہیں ہوتے۔اگر وہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ابتدائی دور میں اپنی گرفت میں جلدی کرتا تو عکرمہ اور ان کے ایک سو چالیس کے قریب ساتھی جنہوں نے بعد میں تو بہ کی اور اسلام میں داخل ہوئے اور جنگ یرموک کے موقع پر جب انہیں ان کے دوست خالد بن ولید نے اس طرف توجہ دلائی کہ تم بڑے گناہگار ہو تم نے خدا کے رسول کے خلاف کارروائیاں کیں، ان کو