انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 64
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۶۴ سورة الانعام آیت ۳۸ وَقَالُوا لَو لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّنْ رَّبِّهِ قُلْ إِنَّ اللَّهَ قَادِرُ عَلَى أَنْ يُنَزِّلَ آيَةً وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ۔ط اللہ تعالیٰ کو آیات کے نازل کرنے پر قادر نہ سمجھنا یعنی یہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ اب آیات کے نزول پر قادر نہیں رہا ( یہ آیت کا ترجمہ ہے۔میں عربی نہیں لے رہا) ان لوگوں کا کام ہے جو لا يَعْلَمُونَ جو عقل تو رکھتے ہیں لیکن پاکیزہ عقل نہیں رکھتے۔جاہل ہیں اس لحاظ سے۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ یقیناً پورا ہونے والا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کی ذات اپنی پوری قدرتوں کے ساتھ اور پورے غلبہ کے ساتھ ایسی نہیں کہ وعدہ کرے اور پورا نہ کر سکے اور وہ جو طہارت کا سر چشمہ ہے اس کے وعدے ایسے نہیں کہ وہ وعدہ کرے اور پورا کرنے کا ارادہ چھوڑ دے یعنی دغا کر جائے وعدہ خلافی کر جائے۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ یقیناً پورا ہونے والا ہے۔ایسا سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے دیئے ہیں وہ پورے ہوں گے، یعلمون ان لوگوں کا کام ہے ( اس آیت میں جن لوگوں کا ذکر تھا) کہ جو لوگ علم رکھتے ہیں پاکیزہ عقل ، لب کے نتیجہ میں اس گروہ میں شامل ہیں۔ایسا نہ سمجھنا جہالت ہے۔یہ آیت تو ہے چھوٹی سی لیکن قرآن کریم نے تبشیر وانذار سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں وعدے دیئے ہمیں اور ایسے بھی وعدے تھے جن کا تعلق خاص گروہوں کے ساتھ ہے۔ایسے بھی وعدے ہیں جن کا تعلق ہر اس شخص کے ساتھ ہے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے۔تو وعدہ ہے وہ تمہیں دے دیا جائے گا۔تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ یقیناً پورا کرنے والا ہے لیکن انسان دو گروہوں میں بٹ گئے۔ایک وہ جو سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کبھی وعدہ پورا نہیں کرتا یا نہیں کر سکتا اور ایک وہ گروہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جیسا کہ پہلے اپنی پوری قدرتوں اور غلبہ کے ساتھ تھا، ہے اور آئندہ ویسا ہی رہے گا۔اس میں تو کوئی تبدیلی نہیں نا ہوتی۔ایک تو یہ گروہ ہے اور ایک وہ ہے جو کہتا ہے نہیں۔وعدے تو ہیں ، پورے ہوں نہیں ہوں گے یا شک میں پڑ گئے کہ پورے شاید نہ ہوں۔طارق نے جب کشتیاں