انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 65
تغییر حضرت خلیفۃ المسح الثالث سورة الانعام جلائیں وہ شک میں نہیں پڑے۔انہیں یہ پتا تھا کہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے اَنْتُمُ الْأَعْلَونَ اِنْ كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (ال عمران : ۱۴۰) ان کو فکر اپنے ایمان کی تھی۔ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بے وفائی، وعدہ کی بے وفائی کا خوف نہیں تھا۔چونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم اخلاص کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کی محبت میں اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی حفاظت میں یہاں آئے ہیں ان کے مخالفانہ منصوبوں کو نا کام کرنے کے لئے ، اس لئے ہمیں کسی مادی دنیوی سہارے کی ضرورت نہیں۔اور پھر چودہ سوسال اور پھر پندرہویں صدی کا جو کچھ حصہ گزرا ہے جنہوں نے یہ سمجھا اور شناخت کیا اور یہ معرفت حاصل کی کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کو پورا کرتا ہے، پورا کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے اور اس کا جو تقدس ہے جو اس کی طہارت ہے سُبحان اللہ میں جو کیفیت اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائی ہے اپنے وجود کی وہ تقاضا کرتی ہے کہ جو وہ وعدہ کرے وہ پورا کرے۔ہاں اس نے شرط لگائی ہے بندوں پر، ایسا کروگے میں وعدہ پورا کروں گا۔ایسا نہیں کرو گے تمہارے اندر استحقاق نہیں رہے گا کہ میں وعدہ پورا کروں۔اس کی ذمہ داری بندے پر ہے خدا پر نہیں ہے اور خوف کا مقام ہے۔ط (خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۴۱۱ تا ۴۱۳) آیت نمبر ۱۱۰٬۱۰۵٬۵۸ قُلْ إِنِّي عَلَى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّي وَ كَذَّبُتُم بِهِ مَا عِنْدِي مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ يَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَيْرُ الْفَصِلِينَ قَدْ جَاءَكُمْ بَصَابِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ ، فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ ۚ وَ مَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا ، وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظ۔ج وَ اَقْسَمُوا بِاللهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَبِنْ جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ إنَّمَا الْأَيْتُ عِنْدَ اللَّهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ کہہ دے! مجھے اپنی رسالت کی سچائی پر کھلی کھلی دلیل اپنے رب کی طرف سے ملی ہے۔میں بے ثبوت نہیں آیا۔میں ثبوت لے کر اپنے رب کی طرف سے آیا ہوں اور تم پھر بھی تکذیب کر رہے ہو۔جس عذاب کو تم جلدی مانگتے ہو وہ میرے اختیار میں