انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 630 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 630

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۶۳۰ سورة العنكبوت باتیں کرتا ہے اور اپنے رب کا بھی شکوہ شروع کر دیتا ہے۔تو قضاء وقدر کی آزمائش اور امتحان جو ہمارے لئے مقدر ہیں ان میں بھی ہم نے ایسا نمونہ دکھانا ہے کہ خدا تعالیٰ کی بشارتیں ہمیں ملیں اس کا غضب یا ناراضگی ہم پر نہ اترے۔خطبات ناصر جلد اول ۲۱۴ تا ۲۲۲ آیت ۶۰٬۵۹ وَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَنُبَوثَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهرُ خَلِدِينَ فِيهَا نِعْمَ أَجْرُ الْعَمِلِينَ الَّذِينَ صَبَرُوا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ) فرمایا کہ محدودے چند چیزیں نہیں ملتی بلکہ اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے اس کے محبوب بن جاؤ گے تو بہترین جزا جو کوئی شخص حاصل کر سکتا ہے وہ تمہیں مل جائے گی اس دنیا میں بھی دیکھو خدا تعالیٰ جب کسی پر احسان کرنے پر آتا ہے تو وہ اس کے توکل کا اس قسم کا اجر دیتا ہے کہ انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے سورہ عنکبوت میں فرمایا ہے۔نِعْمَ أَجْرُ الْعَمِلِينَ الَّذِينَ صَبَرُوا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ یعنی اچھے عمل کرنے والوں کا اجر بہت اچھا ہوتا ہے۔وہ مومن جو اعمالِ صالحہ بجا لاتے ہیں جو اپنے عقیدہ پر پختگی سے قائم رہتے ہیں اور اعمال صالحہ بجالانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اپنے رب اللہ پر ہی تو کل کرتے ہیں اور اس یقین پر کھڑے ہوتے ہیں کہ اس توکل کے نتیجہ میں انہیں ایسے انعامات حاصل ہوں گے جو کسی اور جگہ سے حاصل نہیں ہو سکتے انہیں بہت اچھا اجر ملے گا اور چونکہ اس توکل کے نتیجہ میں نِعْمَ أَجْرُ الْعَمِلِينَ والی ہستی ان پر واضح ہو جاتی ہے اس لئے ایمان میں بھی وہ پختہ ہوتے ہیں اور اعمال صالحہ سے بھی وہ چھٹے رہتے ہیں اور ایک سیکنڈ کے لئے بھی یہ بات ان کے دماغ میں نہیں آتی کہ ہم عمل صالح کی بجائے عمل غیر صالح کریں ہم ایسے اعمال بجالائیں جو خدا تعالیٰ کی نظر میں محبوب نہ ہوں محمود نہ ہوں جب وہ ایسا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کو ایسا اجر دیتا ہے کہ ساری دنیا کی نعمتیں ان کو مل جاتی ہیں بہترین جنتیں انہیں عطا ہوتی ہیں انہیں وہ لذت اور سرور ملتا ہے جس کا تصور بھی ہم یہاں نہیں کر سکتے وہ آرام انہیں نصیب ہوتا ہے جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگرتم مجھ پر