انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 629
۶۲۹ تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث سورة العنكبوت لےلوجس کا زمانہ اتنا لمبا ہے کہ تم اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔محاورہ میں وہ ابدالآباد کا زمانہ بھی کہا جا سکتا ہے اگر چہ وہ ہمیشہ کے لئے نہیں لیکن اس کا زمانہ اتنا لمبا اور اس کی شدت اتنی ہیبت ناک ہے کہ اگر ہم اسے ہمیشہ کا عذاب بھی کہہ دیں تو غلط نہیں ہو گا تو فرماتا ہے کہ جب لوگ تمہیں میری وجہ سے تکلیف پہنچانے لگیں ، دکھ دینے لگیں اور تمہارے لئے عذاب کے سامان مہیا کر دیں تو تمہیں میرے عذاب کا تصور بھی کر لینا چاہئے۔اس تصور سے تم لوگوں کے عذاب پر صبر کرنے کے قابل ہو جاؤ گے اور تمہارے لئے یہ فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا کہ آیا لوگوں کے عذاب کو تم قبول کرو گے یا میرے عذاب کو جو ایک بڑا لمبا اور شدید عذاب ہے۔سو کوئی عقلمند انسان جو خدا پر ایمان اور یقین رکھتا ہو کبھی یہ نہیں کہ سکتا اور نہ یہ پسند کر سکتا ہے کہ لوگوں کے عذاب سے بچ جائے اور خدا کے عذاب میں مبتلا ہو۔ہاں بعض بدقسمت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو لوگوں کے عذاب کو دیکھ کر ٹھوکر کھا جاتے اور ارتداد کی راہ اختیار کرتے ہیں۔پس ایک تیسری قسم کا فتنہ جو ایمان کے اعلان کے بعد مومن کے سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ منکر اور مخالف لوگ اپنا پورا زور لگاتے ہیں کہ وہ مومنوں کو دکھ اور تکلیف پہنچائیں اور اس وقت ظاہر ہوتا ہے کہ کون اپنے ایمان میں صادق ہے اور کون کا ذب ہے۔فرمایا کہ یاد رکھنا کہ لوگوں کا عذاب تو عارضی ہے وقتی ہے بڑا ہلکا ہے اس کے مقابل پر میرا عذاب بڑا لمبا اور بڑا شدید ہے جو ایک لمحہ کے لئے بھی تمہارے سامنے آ جائے تو تم دس ہزار سال تک لوگوں کے عذاب کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔الغرض یہ تین قسم کے فتنے یا آزمائشیں یا امتحان ہیں جن میں سے خدا تعالیٰ کے مومن اور متقی بندوں کو گزرنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔پھر قضاء و قدر کی آزمائش میں بھی ہمیں نہایت اچھا اور نیک نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔اس وقت مسلمان کہلانے والوں میں سے ایسے خاندان بھی آپ کو نظر آئیں گے جو گھر میں فوت وموت ہونے کے وقت یا تو خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں یا پھر اس کا شکوہ شروع کرنے لگتے ہیں۔وہ اس بشارت کے مستحق نہیں بن سکتے جس کا ذکر خدا تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمایا ہے۔وَبَشِّرِ الصّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ (البقرة : ۱۵۷) جس کی چیز تھی اس نے لے لی شکوہ کی گنجائش ہی کہاں ہے لیکن انسان بعض دفعہ بڑی حماقت کی