انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 628 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 628

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۶۲۸ سورة العنكبوت اگر ہم تاریخ انبیاء پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہر نبی اور مامور کے ماننے والوں کو ان کے مخالفین نے ہر قسم کی ایذا ئیں پہنچائیں لیکن اس میں سے سب سے زیادہ حصہ اس نبی کے صحابہ کو دیا گیا جوسب انبیاء سے اعلیٰ، ارفع ، سب سے زیادہ مقدس اور امام المطہرین تھے یعنی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے کی زندگی میں اور پھر اس کے بعد جہاں جہاں بھی اسلام دنیا میں پھیلتا گیا، اسلام میں داخل ہونے والوں کو تکالیف اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بھی ایک آزمائش ہے جس میں سے تم میں سے ہر مومن کو گزرنا ہے۔اگر تمہارے دل میں واقعی میری محبت ہے اور تم واقعی میری رضا کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہیں اس آزمائش سے بھی صدق و وفا کے ساتھ گزرنا پڑے گا۔اس امتحان میں پورا اترنے اور ہمیں اپنے عذاب سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اور تصور بھی ہمارے سامنے پیش فرمایا ہے۔فرمایا: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ فَإِذَا أُوذِيَ فِي اللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ الله (العنکبوت : ۱۱) اور لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے لیکن جب اعلان ایمان کے بعد ان پر آزمائش آتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس تیسری قسم کے فتنہ سے ان کا امتحان لینا چاہتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی خاطر اور اس کی وجہ سے انہیں تکلیف میں ڈالا جاتا ہے۔کیونکہ لوگ ان کے مخالف ہو جاتے ہیں کبھی وہ انہیں قتل کرنے کے درپے ہوتے ہیں کبھی ان کی بے عزتی کرتے ہیں اور کبھی ان کا بائیکاٹ کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ہزاروں قسم کے داؤ پیچ ہیں جو مخالف لوگ شیطانی وسوسوں کی وجہ سے اختیار کرتے ہیں۔تو فرمایا کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کی وجہ سے ان کو تکلیف میں ڈالا جاتا ہے تو وہ لوگوں کے عذاب کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح سمجھ لیتے ہیں فرمایا کہ اگر تم کمزوری دکھاؤ گے تو تمہیں وہ عذاب بھگتنا پڑے گا جو میں نے تمہارے لئے مقدر کیا ہے۔اور اگر تم مضبوطی دکھاؤ گے اور اپنے ایمان پر ثابت قدم رہو گے تو تمہیں صرف وہ عذاب جھیلنا پڑے گا جو یہ محدود طاقتوں والے انسان پہنچا سکتے ہیں۔اب خود اندازہ کر لو کہ ان دو عذابوں میں سے کون سا عذاب زیادہ شدید اور کونسا عذاب زیادہ دیر پا ہے ان دو عذابوں میں سے ایک عذاب تمہیں ضرور ملے گا چاہو تو بندوں کی ایذاء رسانی کو قبول کر کے میرے عذاب سے بچ جاؤ ، چاہو تو اس عارضی عذاب سے بچنے کی خاطر میرا وہ عذاب مول