انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 621 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 621

۶۲۱ سورة القصص تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث غرض اللہ تعالیٰ نے وَابْتَغِ فِيمَا أَنكَ اللهُ النَّارَ الْأخر تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے مادی سامان یا جسمانی اور روحانی قوتیں اور طاقتیں ان سب کے ذریعہ دار آخرت کی نعماء کے حصول کی کوشش کرو۔دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ اَرَادَ الْأَخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا الخ (بنی اسرائیل : ۲۰) جو اس حکم کے نتیجہ میں اور آخرت کی نعماء کی خواہش رکھے وسطی لَهَا سَعيها اور محض خواہش ہی نہ ہو بلکہ دار آخرت کی نعماء کے حصول کے لئے جس قسم کی کوشش اور مجاہدہ کی ضرورت ہے اور جس کا حکم دیا گیا ہے وہ کوشش اور مجاہدہ بجالائے ایسے حال میں کہ وہ مومن ہو یعنی آخرت پر بھی اس کا ایمان پختہ ہو۔یہاں هُوَ مُؤْمِن کے ایک معنے ہم یہ بھی کریں گے کہ آخرت پر اس کا ایمان پختہ ہو دل میں شیطانی وسوسہ نہ ہو کہ پتہ نہیں مرنے کے بعد دوسری زندگی ملے گی یا نہیں ملے گی الہی سلسلوں میں کئی ایسے کمزور لوگ بھی ہوتے ہیں جو قربانیاں بھی دے رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنی کمزوری ایمان کی وجہ سے انہیں ضائع بھی کر رہے ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں پتہ نہیں آخرت کی زندگی ہے بھی یا نہیں؟ پتہ نہیں وہاں ہمیں کس قسم کے انعاموں کا وعدہ دیا گیا ہے چونکہ ان کا ایمان پختہ نہیں ہوتا اس لئے نقصان اٹھاتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے اس حکم کے مطابق انسان کی خواہش آخرت کی نعماء کے حصول کی ہو اور پھر صرف خواہش ہی نہ ہو بلکہ وسطی لَهَا سَعيها آخرت کے نعماء کے حصول کے لئے جس قسم کی سعی اور کوشش اور مجاہدہ کی ضرورت ہے وہ اس قسم کی سعی اور کوشش اور مجاہدہ کر رہا ہو اور پھر فرما یا وَهُوَ مُؤْمِنْ آخرت پر اس کا ایمان بھی پختہ ہو تو پھر اس کی کوشش پر اللہ تعالیٰ اس کا شکر گزار ہوگا یعنی اللہ تعالیٰ کے جو وعدے ہیں اس کے مطابق انعام ملے گا۔میں نے ابھی بتایا تھا کہ جب تک انسان کا دار آخرت اور اُخروی زندگی پر ایمان پختہ نہ ہو وہ قربانی نہیں دے سکتا جس کا اس سے مطالبہ کیا گیا ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ پر ہمیں ایمان ہے تو دار آخرت پر بھی ہمیں ایمان لانا چاہئے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کی ایک تو یہ زندگی ہے اور اس کے بعد ایک درمیانی زندگی ہے اور پھر آخرت میں جنت کی زندگی ہے جس میں انسان کو ایسی نعمتیں عطا ہوں گی جو اس کے تصور میں بھی نہیں آسکتیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں سمجھانے کے لئے اس دنیا کے بعض الفاظ بیان فرمائے ہیں لیکن ساتھ ہی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم