انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 614
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۶۱۴ سورة القصص جائے گا لیکن اس دنیا میں جہنم کی آگ سے اسے کون بچائے گا ؟ اس دنیا میں اسے کوئی بیماری ہوئی تو کسی حکیم نے اسے روپیہ کی دوائی دے دی یا کسی ڈاکٹر نے دو ہزار روپیہ کی دوائی دے دی اور اسے آرام آ گیا یہ درست ہے لیکن اس دنیا میں جہنم میں جو بیماری ظاہر ہوگی جسم میں پیپ پڑی ہوئی ہو گی، کسی کو کوڑھ ہوا ہو گا۔کسی کو فالج ہو گا اور کسی کو پتہ نہیں کون سی بیماری ہو روحانی طور پر جو اس کی یہاں حالت تھی وہ وہاں ظاہر ہو رہی ہو گی ، وہاں کون ڈاکٹر اس کے علاج کے لئے آئے گا؟ پس انسان کو ہر کام کے لئے اللہ تعالیٰ کی احتیاج ہے اور ہمیں ہر قسم کی قربانیاں اس کی راہ میں دینی (خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۳۴۳، ۳۴۴) آیت ۵۷ إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يشَاءُ ۚ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ اے رسول ! جس کو تو پسند کرے اس کو ہدایت نہیں دے سکتا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ وہ کسی کو ہدایت دے یا نہ دے۔یہ الگ طور پر ایک لمبا مضمون بن جاتا ہے اس کی تفصیل میں تو اس وقت نہیں جاؤں گا۔جو شخص ہدایت پانے کی کوشش کرتا ہے یعنی ایمان لاتا ہے اور پھر اس کے مطابق عمل بھی بجالاتا ہے تو اگر چہ بشری کمزوریاں انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے۔ویسے یادرکھنا چاہیے کہ جب تک دعا کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب نہ کیا جائے اس وقت تک حقیقی کامیابی نصیب نہیں ہوتی اور بظاہر صحیح عقیدہ کے باوجود انسان کے اعمالِ صالحہ رڈ کر دیئے جاتے ہیں اور وہ عند اللہ قبول نہیں ہوتے۔ان کے بیچ میں کوئی گندی چیز آ جاتی ہے اور چونکہ خدا تعالی کی ذات پاک ہے وہ کہتا ہے میں ایسے عمل کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔اس لئے ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ تم اچھے عمل کرنے کے بعد دعا سے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کو جذب کرو تا کہ تمہارا بیان خدا تعالیٰ کے حضور قبول ہو جائے۔فرمایا وَ لكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ خدا تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے آخری فیصلہ اسی کے اختیار میں ہے کیونکہ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ وہ جانتا ہے کہ کون ہدایت یافتہ ہے اور کون نہیں ہے۔کسی شخص کے اعمال واقعی قبول ہوجائیں گے اور اس کی بشری کمزوریوں کو معاف کر دیا جائے گا اور وہ ہدایت یافتہ گروہ میں آجائے گا۔(خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۲۴)