انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 615
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۱۵ سورة القصص آیت ٦٢٦١ وَمَا أُوتِيتُم مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ زِينَتَهَا وَمَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ وَ اَبْقَى أَفَلَا تَعْقِلُونَ & أَفَمَنْ وَعَدُنْهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيْهِ كَمَنْ مَّتَعَنْهُ مَتَاعَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ اس دنیا میں انسان کو جو کچھ بھی ملتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتا ہے اور یہ عطا ایک خاص مقصد کے لئے انسان پر نازل ہوتی ہے۔انسان کا ذہن ہے، انسان کی طاقت ہے، انسان کی استعداد ہے، اخلاقی طاقتیں اور روحانی قوتیں ہیں جو انسان کو دی گئی ہیں۔غرضیکہ انسان کو جو کچھ بھی ملا ہے وہ ایک خاص مقصد کی خاطر اسے ملا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان دو آیات میں جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے فرمایا ہے انسان میں سے دو گروہ بن جاتے ہیں۔ایک وہ گروہ ہے کہ جو کچھ انہیں ملتا ہے اسے وہ صرف مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وزينتها سمجھتے ہیں اور اس سے آگے نہیں بڑھتے۔خدا نے جو د نیوی سامان دیئے ہیں ان کا استعمال محض دنیا کے لئے اور دنیا کی اغراض کی خاطر کیا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی عطا کو دنیا کی زینت کے لئے سمجھا جاتا ہے۔اسی کی طرف دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اشارہ کرتے ہوئے فرما یا ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الحَيوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعَا (الكهف: ۱۰۵) پھر فرمایا ایک دوسرا گر وہ ہے جو عقل رکھتا ہے اور اس کا استعمال کرتا ہے اس گروہ کے متعلق تو خدا تعالیٰ نے فرما یا آفلا تعقلون یہ لوگ عقل سے کام کیوں نہیں لیتے لیکن عقل سے کام لینے والوں کا بھی ایک گروہ ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اس دنیا میں جو کچھ انسان کو ملا وہ اس لئے ہے کہ وہ اپنے وجود اور اس کی طاقتوں کی نشو و نما اس طرح کرے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا سچا، حقیقی اور پختہ تعلق قائم ہو جائے۔یہی تعلق ہے جس کے نتیجہ میں اس دنیا کے بعد بھی حسین جنتوں کا وعدہ دیا گیا ہے اور یہی تعلق ہے جس کے نتیجہ میں اس دنیا میں بطور جزا کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بدلہ ملتا ہے۔فرمایا وَمَا عِندَ اللهِ خَیر اور وہ بدلہ خیر اور بھلائی ہوتی ہے۔وہ دکھوں کی طرف، وہ جہنم کی طرف اور وہ خدا تعالیٰ