انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 604
۶۰۴ سورة الفرقان تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث انسانی زندگی کے ہر فعل کو کامیابی حاصل کرنے کے لئے دعا کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو فر ما یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ اعلان ہوا۔مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ عربي زبان میں يَعْبَؤُا کے کیا معنی ہیں۔اس کے معنی ہمیں بتائیں گے کہ خدا تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔منجد ایک چھوٹی کتاب ہے لغت کی اُس نے تو ی لکھا ہے:۔لَا أَعْبَأُ بِهِ أَن لَا أُبَالِي بِهِ احْتِقَارًا کہ حقارت کے نتیجہ میں جو یعنی خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میرے اندر تمہارے لئے تحقیر پیدا ہوگی اور میں تمہاری پرواہ نہیں کروں گا اگر تم دعا نہیں کرو گے۔مفردات نے اس کے یہ معنی کئے ہیں مَا عَبَأْتُ بِهِ أَن لَمْ أَبَالِ بِهِ كَأَنَّهُ قَالَ یعنی آپ کہتے ہیں کہ گویا خدا نے یہ اعلان کیا: - مَا آرَى لَهُ وَزُنَا وَ قَدْرًا کوئی قدر میرے دل میں ایسے بندہ کے لئے نہیں ہوگی ، نہ کوئی مقام ہو گا اس کے لئے اگر وہ دعا نہیں کرتا۔پس جس طرح ہمارے جسم کے ساتھ دل کی دھڑکن اور خون کی روانی لگی ہوئی ہے اسی طرح ہماری روح کے ساتھ دعا لگی ہوئی ہے اگر انسان سمجھے۔اسی لئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چھوٹی اور بڑی چیز کے حصول کے لئے اپنے آپ کو کچھ سمجھ نہ لینا، خدا سے مانگنا یہاں تک کہ اگر تمہارے بوٹ کا تسمہ ٹوٹ جائے تو بوٹ کا تسمہ بھی اپنے خدا سے مانگنا اور خود میرے مشاہدہ میں ہے کہ بعض دفعہ ایک انسان ایک چھوٹی سی غرض کے حصول کے لئے سائیکل پر سوار ہوتا اور چند فرلانگ پر اس نے جانا ہے اس غرض کو پورا کرنے کے لئے اگر مقبول دعا کئے بغیر وہ روانہ ہو جاتا ہے تو مقصود تک پہنچنے سے پہلے راستہ میں اس کا دم نکل جاتا ہے۔زندگی اور موت کسی کے اختیار میں نہیں۔روحانی طور پر اور اخلاقی لحاظ سے کامیابیاں اور ناکامی بھی کسی کے اختیار میں نہیں۔خدا تعالیٰ کی نظر سے گر جانا اور خدا تعالیٰ کی نظر میں پیار دیکھنا، یہ بھی کسی کے اختیار میں نہیں۔خدا تعالیٰ کی درگاہ تک پہنچ جانا یا درگاہ سے دھتکارا جانا، یہ بھی کسی کے اختیار میں نہیں۔یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔اس لئے فرمایا :- قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَو لَا دُعَاؤُكُمْ دعا کے ذریعہ سے اپنی تمام انسانی ضرورتیں پوری کرنے کی کوشش کرو۔دعا قبول ہوگی کامیاب ہو جاؤ گے۔دعا قبول نہیں ہوگی نا کام ہو جاؤ گے۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۴۲۱،۴۲۰)