انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 603 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 603

۶۰۳ سورة الفرقان تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث لیکن انسان کو خدا نے یہ کہا ہے کہ اگر تو صاحب اختیار ہونے کے نتیجہ میں میرے قُرب کی راہوں کو تلاش کرنے کی بجائے اور اُن کے حصول کے لئے قربانیاں دینے کی بجائے دُعا کرنے سے لا پرواہ ہو جائے گا اور دُعا کرنے میں رغبت نہ ہوگی اور خدا کی رضا حاصل کرنے کی طرف متوجہ نہ ہو گا تو ما يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَولا دُعَاؤُكُمْ اللہ تعالیٰ کو تمہاری کیا پرواہ ہے۔غرض قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دعا و کمر کی آواز انسان کے سوا کسی اور مخلوق نے نہیں سنی لیکن اس کے ساتھ اور اس کے پہلو میں وہ عظیم بشارت بھی ہے کہ اگر تم دُعا کرو گے تو تمہارا قادر و تواناخُدا جو تمہارا خالق اور مالک ہے، وہ تمہاری پرواہ کرے گا کتنا حسین کلمہ ہے جس میں خدا تعالیٰ کی محبت پنہاں ہے اور یہی وہ تیسری بات ہے جس کے متعلق میں نے اس خطبہ کے شروع میں کہا تھا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم دُعائیں کروتا میرا پیار تمہیں حاصل ہو، دُعا ئیں کرو تا میری آواز سنو ! دُعائیں کرو تا میری قدرت کے معجزات دیکھو۔دُعائیں کرنے سے لا پرواہ نہ ہو جاؤ ورنہ تمہارے کان میں میرے غضب کی وہ آواز آئے گی جو کسی اور مخلوق مثلا سکتے اور سور نے بھی نہیں سنی ہوگی۔کبھی لگتے ، گھوڑے، ہیل اور بکری کے کان میں یہ آواز نہیں آتی اور نہ ہی خار دار جھاڑیوں یا کیکر کے درختوں نے جن کے لمبے لمبے کانٹے ہوتے ہیں، یہ آواز سنی ہے کہ۔قُلْ مَايَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ - غرض انسان کے علاوہ دوسری مخلوق میں سے کسی کے کان میں یہ آواز نہیں پڑی کہ اگر تم دُعا نہیں کرو گے تو خدا تمہاری کیا پرواہ کرے گا لیکن انسان کے کان میں یہ آواز پڑی اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل انسان کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مخاطب کر کے فرمایا :۔قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَولا دُعَاؤُكُمْ اس سے انسان کا اتنا بڑا امتیاز قائم کر دیا اور اُسے اتنی عظیم بشارت دی کہ انسان خُدا تعالیٰ کی محبت میں دیوانہ ہو جاتا ہے اور خشیۃ اللہ سے اُس کے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔یہ کپکپاہٹ اور خشیت دراصل الہی پیار کے نتیجہ میں بھی پیدا ہوتی ہے۔اسے اہتنر از کہتے ہیں۔انسان کے جسم میں سر سے پاؤں تک محبت کی ایک لہر اٹھتی ہے جو اس کے جسم اور روح کے گوشہ گوشہ میں سرور بھر دیتی ہے گویا اللہ تعالیٰ نے انسان سے یہ کہا کہ اگر تم شرائط کو پورا کرتے ہوئے میرے حضور عاجزانہ جھکو گے تو میں تم پر رجوع برحمت ہوں گا۔یہ کتنا ہی پیارا فقرہ ہے جو قرآن کریم کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہمارے کان میں پڑا۔(خطبات ناصر لد پنجم صحہ ۶۹۲ ۶۹۸۳)