انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 602
۶۰۲ سورة الفرقان تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اموال بھی ہمارے پاس ہوتے ، دنیا کے اقتدار کے بھی ہم مالک ہوتے ، دنیا کی ساری عزتیں اور وجاہتیں بھی ہمارے قدموں میں ہوتیں تب بھی ہم کسی تدبیر کے نتیجہ میں فلاح اور کامیابی کا منہ نہ دیکھ سکتے تھے جب تک کہ ہم عاجزی اور انکسار کے ساتھ اپنے رب کی طرف جھکنے والے نہ ہوتے اس کو اپنا مطلوب مقصود اور محبوب نہ بناتے اور اس سے مدد اور نصرت کے طالب نہ ہوتے اور اس بات پر پختہ یقین نہ رکھتے کہ کامیابی محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے احسان کے نتیجہ میں نصیب ہوسکتی ہے ہماری تدابیر اور ہمارے اعمال کے نتیجہ میں نہیں۔پس جب یہ حقیقت ہے تو ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر وقت اور ہر آن اپنے رب کے حضور یہ دعائیں کرتے رہیں کہ اے خدا! تو نے ہمیں تدبیر میسر نہیں کی لیکن تو نے ہمیں گداز دل عطا کئے ہیں۔ہم کو منکسر مزاج دیئے ہیں ہم تیرے حضور جھکتے ہیں تو ہم پر فضل کرے تو ہم پر رحمت کی نگاہ کر ، اور اس مقصد کے حصول کے سامان جلد پیدا کر دے جس مقصد کے لئے تو نے ہماری جماعت کو قائم کیا ہے۔( خطبات ناصر جلد اول صفحه ۱۹۷ تا ۲۰۱) فرما یا قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ اللہ تعالیٰ کی ذات تو غنی ہے اسے تو تمہاری احتیاج نہیں ہے تمہیں اس کی احتیاج ہے اگر تم اس احتیاج کا احساس نہ رکھتے ہوا گر تم دنیا میں عزت کے لئے اس سے عززت حاصل کرنے کی خواہش نہ رکھتے ہو، اگر تم اپنے بوٹ کے تسمہ کے حصول کے لئے خود کو طاقت ور اور اپنی طاقت اور مال کی طاقت کو کافی سمجھتے ہو، تو تم مارے گئے تم ہلاک ہو گئے قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَولا دُعَاؤُكُم اگر تم دعا کے ذریعہ سے اس غنی کے دروازے کو نہیں کھٹکھٹاؤ گے (جسے تمہاری احتیاج نہیں جس کی تمہیں ہر آن احتیاج ہے ) تو مارے جاؤ گے۔(خطبات ناصر جلد سوم صفحه ۳۹۳) قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ کہ اگر انسان کو دعا کرنے کی قوت نہ دی جاتی اور دُعا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار نہ دیا جاتا اور انسان دُعا نہ کرنے کے اختیار کو چھوڑ کر دُعا کرنے کی طرف متوجہ نہ ہوتا اور خدا تعالیٰ کو نہ پکارتا تو خدا تعالیٰ کو اس کی کیا پرواہ ہے؟ خدا تعالیٰ نے اپنی کسی اور مخلوق یا کسی اور جانور سے اس طرح اپنے غصہ کا اظہار نہیں فرمایا کہ اگر وہ خدا کی تسبیح نہ کرے اور اس کی تحمید نہ کرے تو خدا کو اس کی کیا پرواہ ہے؟ اور یہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو بنایا ہی اس صورت میں ہے کہ وہ بہر حال تسبیح و تحمید کرتے ہیں ان کو یہ اختیار ہی نہیں دیا گیا کہ وہ کسی وقت تسبیح او تحمید کو چھوڑ دیں