انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 592
۵۹۲ سورة الفرقان تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ہاں میں یہ بتادوں کہ قرآن کریم کا ہی ذکر ہے اس آیت میں جس میں ہے۔وَقُل رَّبِّ زِدْنِي علمًا ( طه : ۱۱۵) یہ دعا ہمیں سکھائی گئی ہے قرآن کریم نے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں علم میں بڑھاتا چلا جا۔اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ قرآن عظیم غیر محدود علوم کا خزانہ ہے کیونکہ اگر وہ محدود ہوں تو اس وقت جب وہ پہلی ساری باتیں ختم ہو گئیں اس کے بعد اس دعا کا کوئی فائدہ نہیں لیکن قیامت تک آنے والے انسان کو یہ دعا سکھائی قرآن کریم نے کہ یہ دعا کرتے رہو کہ اے خدا! ہمیں قرآنی علوم میں بڑھا تا ہی چلا جا۔قُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔اور یہ بھی ہمیں بتایا اللہ تعالیٰ نے کہ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ( يه سورة بقره کی ۲۵۶ ویں آیت کا ایک ٹکڑا ہے ) اس سے پہلے اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ جو کچھ انسان کے سامنے ہے اور جو کچھ انسان کے پیچھے ہے یعنی جو کچھ اس کے علم میں ہے اور جو کچھ وہ اپنے عدم علم کی وجہ سے جانتا نہیں ، جاہل ہے اُس سے ، وہ سب کچھ ہی اللہ تعالیٰ جانتا ہے یعنی جو کچھ بھی ہے خواہ وہ انسان جانتا ہو یا نہ جانتا ہو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور وَ لَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ علية إلا بما شاء اللہ تعالیٰ کا ئنات کو پیدا کرنے والا ، کائنات کی کنہ کو جاننے والا ہے اور اس کی مرضی کے سوا اس کے علم کے کسی حصہ کو بھی کوئی شخص پا نہیں سکتا۔تو ہر علم میں جو زیادتی ہوتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی منشا اور مرضی کے مطابق ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایک دہر یہ سائنس دان جب کوئی Problem حل کر رہا ہو یا اپنا کوئی فارمولا بنارہا ہو اور اس کو سمجھ نہ آ رہی ہو، دماغ میں اندھیرا ہو اور ایک تڑپ اس کے اندر پیدا ہوتی ہے کہ کہیں سے مجھے روشنی ملے تو وہ تڑپ ایک غافل کی دعا کی مانند ہے اور اللہ تعالیٰ ایسا ہی سمجھتا اور اس کے دماغ میں روشنی پیدا کر دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس جگہ کسی آیت کا حوالہ نہیں دیا۔ابھی میں نے جو کہا تھا نا کہ کسی آیت کا حوالہ آپ دیں کہ وہ ہے کسی نہ کسی آیت کی تفسیر۔پہلے میرے دماغ میں یہ بات نہیں تھی تب آپ سے باتیں کرتے ہوئے یہ آیت آگئی سامنے، وہی مثال اس کی کہ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ - اس کی تفسیر کرتے ہوئے آپ نے وہ لکھا ہے کہ کوئی دہریہ، کوئی کمیونسٹ، کوئی بت پرست کوئی بد مذہب علم کے میدان میں ترقی کرتے ہوئے جب ترقی کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کی منشا کے مطابق ترقی کرتا ہے اس کی منشا کے بغیر ترقی نہیں کرتا اور انسان