انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 589
۵۸۹ سورة الفرقان تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث تمہاری کوئی قوت بھی یہ نہیں کہ سکتی کہ اے میرے رب ! میں نے تجھ سے یہ مانگا تھا اور تو نے وہ مجھے دیا نہیں۔یہ التجا دوسری دعا کی طرح نہیں ہے جو کبھی تو قبول ہو جاتی ہے اور کبھی رڈ کر دی جاتی ہے۔یہ تو دراصل انسان کی ہر قوت، ہر عضو اور ہر استعداد کا فطرتی تقاضا ہے جس کا اظہار وہ زبانِ حال سے کر رہی ہوتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا ہے کہ کسی قوت کے ضائع ہونے کا امکان باقی نہیں رہا۔اگر انسان از خود حماقت، تکبر یا اللہ تعالیٰ سے بغاوت کی راہ اختیار نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے انسان کی ہر قوت اپنے نشو و نما کے کمال کو پہنچ جاتی ہے۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۴۳ تا ۸۴۵) آیت ۳۱ وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ رسول نے کہا اے میرے رب ! میری یہ قوم قرآن کریم کو مہجور بنا رہی ہے۔مہجور کا مصدر ہجر ہے اور عربی لغت کے لحاظ سے اس کے معنے زبان سے یادل سے یا دونوں سے قطع تعلق کرنے کے ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے ھجر کے تین معنے ہو جائیں گے۔ایک یہ کہ زبان سے کہنا کہ قرآن کریم کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں۔دوسرے یہ کہ انسان کی دلی کیفیت یہ ہو کہ اُس کا قرآن عظیم سے کوئی تعلق نہ ہو اور تیسرے یہ کہ زبان سے بھی کہنا اور دل سے بھی زبانِ حال سے یہی تاثر دینا کہ کوئی تعلق نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس عظیم قرآن کے ساتھ بھی لوگ تعلق قائم نہیں رکھتے اور اس سے قطع تعلق کر لیتے ہیں حالانکہ قرآن کریم کی تو یہ عظمت اور شان ہے کہ وہ اپنی عظمت کا خود دعویٰ کرتا اور پھر اس کے حق میں دلائل بھی دیتا ہے۔قرآن عظیم اللہ تعالیٰ کی آخری ہدایت اور ایک کامل اور مکمل شریعت ہے۔اس نے اپنی عظمت کے متعلق اور اپنی شان کے متعلق اور اپنی افادیت کے متعلق اور اپنی ہمہ گیری کے متعلق اور تمام اقوام سے اپنے تعلق کے بارے میں اور پھر ہر زمانے سے اس کا جو تعلق ہے اس کے بارے میں خود دعوی کیا ہے اور پھر دلائل سے اس کو ثابت بھی کیا ہے۔قرآن کریم نے ایک بڑا ہی عجیب اور حسین دعوی یہ کیا ہے کہ انسان کی عقل ناقص ہے اور اس کی دلیل یہ دی ہے کہ دیکھو چوٹی کے عقلمند ہر مسئلہ کے متعلق اختلاف کرتے ہیں چنانچہ انسانوں کا باہمی