انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 590
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۵۹۰ سورة الفرقان اختلاف خصوصاً اُن انسانوں کا جو صاحب عقل و فراست سمجھے جاتے ہیں، بڑے علم و تدبر والے سمجھے جاتے ہیں۔اُن کا باہمی اختلاف اس بات کی دلیل ہے کہ اُن کی عقل ناقص ہے۔اگر انسانی عقل ناقص نہ ہوتی تو وہ ایک ہی نتیجہ پر پہنچتی لیکن چونکہ وہ ناقص ہے اور صراط مستقیم کو بھی چھوڑ بھی دیتی ہے اور راہ راست سے بھٹک جاتی ہے اس لئے وہ متضاد نتا ئج پر پہنچتی ہے۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ کی ہستی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس عقلی دلیل کو بار بار اور بڑی وضاحت سے مختلف پیرایوں میں بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ” خدا ہونا چاہیئے “ اور ” خدا ہے میں بڑا فرق ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہستی کے متعلق انسانی عقل زیادہ سے زیادہ صرف ”خدا ہونا چاہیے تک پہنچتی ہے یعنی انسانی عقل دنیا کی مختلف چیزوں کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالتی ہے کہ خدا ہونا چاہیے۔جب کہ دوسرے انسان کہتے ہیں کہ خدا نہیں ہونا چاہیے اور یہ بھی اپنے حق میں عقلی دلیلیں دیتے ہیں۔( خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۲۶۱، ۲۶۲) يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا که قیامت تک اُمت محمدیہ میں قرآن پر بظاہر ایمان لانے والوں میں ایک ایسا گروہ بھی پیدا ہو گا جو قرآن کریم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دے گا اور کوئی توجہ نہیں کرے گا لیکن جو ایسا کرے گا وہ اس کا نتیجہ بھگتے گا، وہ ترقیات کی تمام راہیں اپنے پر بند کرے گا وہ نور سے نکل کے ظلمات میں آجائے گا اس کا سر مخالف کے سامنے ہر وقت جھکا رہے گا۔اس کا ہاتھ غیروں کے سامنے ہر وقت پھیلا رہے گا۔ذلت کی تمام راہیں اس پروا ہوں گی۔عزت کے سارے دروازے اس پر بند ہوجائیں گے کیونکہ قرآن کریم نے ہمیں بتایا۔اِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ بيعا (النساء: ۱۴۰) قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ تمام خزانے خدا کے ہیں اور اپنی حکمت کا ملہ سے، اپنی منشا کے مطابق وہ اپنے خزانوں کو اپنے بندوں کے لئے حصہ رسدی دیتا ہے اور اس کے دروازے ان پر کھولتا ہے۔قرآن کریم اگر قیامت تک کے لئے مسائل حل کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو قیامت تک خدا تعالیٰ کے ایسے نیک اور پاک اور مطہر بندے پیدا ہوتے رہنے چاہئیں جو معلم حقیقی یعنی اللہ تعالیٰ سے سیکھیں اور انسانوں کو قرآن کریم کے اسرار اور بطون سے آگاہ کریں تا کہ جو نئی مصیبتیں انسان نے اپنے لئے پیدا کر لیں اور نئے مسائل اس کے سامنے آگئے ان کا کوئی حل ہو اور اس کی نجات کے