انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 586
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۸۶ سورة الفرقان قرآن کریم ان آیات سے بھرا پڑا ہے جن سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ انسان کو اپنے عمل کی جزا ملے گی مثلاً ایک آیت یہ ہے کہ تم میں سے جو بھی اعمال صالحہ بجالائے گا مرد ہو یا عورت اس کو ان کے مطابق جزا ملے گی۔میں نے بتایا ہے کہ قرآن کریم میں بیسیوں آیات ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان مجبور نہیں ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر جبر کا قانون لاگو نہیں ہے بلکہ اس کو صاحب اختیار بنایا گیا ہے اور اس کو آزادی دی گئی ہے لیکن اس کو ایک اندازے کے مطابق آزادی دی گئی ہے اور فَقَدرَة تَقْدِيرًا میں اس کا اعلان کیا گیا ہے اور قرآن کریم ایسی آیات سے بھرا پڑا ہے۔تم میں سے کوئی شخص اپنی غفلتوں میں زندگی گزارتے ہوئے خدا تعالیٰ پر یہ الزام نہیں دھر سکتا کہ اس نے ہمیں پیار کیوں نہیں دیا حالانکہ ہم تو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق مہدی پر ایمان لے آئے تھے۔تمہیں صرف یہ حکم تو نہیں دیا گیا تھا کہ ایمان لاؤ بلکہ تمہارے لئے اس دائرہ استعداد کے اندر جس میں تمہیں آزاد کیا گیا ہے ہزاروں راستے ایسے کھولے گئے تھے جن میں سے ہر راہ کو اختیار کرنے یا نہ کرنے میں تم آزاد تھے اور تمہیں کہا گیا تھا کہ اگر تم ان کو اختیار کرو گے تو تمہیں ثواب مل جائے گا اور اگر تم ان کو اختیار نہیں کرو گے تو جس حد تک تم ان راہوں کو اختیار نہیں کرتے اس حد تک تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے مستحق نہیں ٹھہرو گے۔اسی طرح ہزار ہا ر استے تمہارے اوپر بند کئے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ یہ کام نہیں کرنے ، یہ خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والی باتیں ہیں اگر ان ممنوعہ راہوں میں سے بعض را ہوں کو تم اختیار کرو تو خدا تعالیٰ کا غضب تم پر آئے گا لیکن یہ اس لئے نہیں کہ تم مجبور ہو بلکہ اس لئے کہ تمہیں آزادی دی گئی تھی کہ تم چاہو تو ان غلط راہوں کو جو خدا تعالیٰ کے غضب اور قہر کی طرف لے جانے والی ہیں اختیار کر لو۔تم آزاد تھے تم نے خود اپنے لئے جہنم کے سامان پیدا کر لئے لیکن اگر تم ہر غلط راہ سے بچو اور تقویٰ کی راہ کو اختیار کرو تو پھر نیکی کی راہیں تمہارے لئے آسان ہو جائیں گی۔پس قضا و قدر کا جو مسئلہ اسلام پیش کرتا ہے بلکہ وہ انسان کو صاحب اختیار بنانے کا مسئلہ ہے وہ انسان کو ایک دائرے کے اندر آزا د ر کھنے کا مسئلہ ہے وہ انسان کی دینی اور دنیوی ترقیات کی راہیں کھولنے کا مسئلہ ہے۔یہ مسئلہ اتنا عظیم ہے کہ دنیا کا کوئی مذہب اس کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتا ، نہ عیسائیت نہ یہودیت اور نہ کوئی اور مذہب اور نہ کوئی عقل انسانی کا تراشیدہ علم اس کے مقابلے میں ٹھہر سکتا ہے۔جس جگہ عیسائیوں نے قضا و قدر کی وجہ سے یہ اعتراض کیا کہ اسلام جبر کی تعلیم دیتا ہے