انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 585
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۸۵ سورة الفرقان نوع انسانی میں سب سے زیادہ اور عظیم استعدادوں کے حامل بنا کر پیدا کئے گئے تھے جیسا کہ خدا تعالیٰ کے کلام سے ہمیں پتہ لگتا ہے نہ آپ سے پہلے کسی ماں نے اتنی عظیم استعدادوں اور طاقتوں اور صلاحیتوں والا بچہ پیدا کیا اور نہ آئندہ پیدا کرے گی۔اسی وجہ سے قرآن عظیم جیسی کتاب آپ پر نازل ہوئی اور رحمۃ للعالمین کی حیثیت سے آپ دنیا کی طرف مبعوث کئے گئے۔یہ آپ ہی کی استعداد تھی اور اتنی عظیم استعداد کے مالک نے ہمیں یہ بھی کہا کہ دین العجائز اختیار کیا کرو کیونکہ ایک گروہ ایسا ہے جو اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔پس زیادہ گہرائیوں میں نہ جایا کرو جو تمہیں حکم ہے وہ کرو اور تمہاری استطاعت کے مطابق یعنی جتنی تم میں ثواب حاصل کرنے کی طاقت اور قوت ہے اس کے مطابق تمہیں ثواب مل جائے گا ورنہ اگر تم اپنی طاقت سے آگے جاؤ گے تو شیطان کے لئے رستے کھل جائیں گے جیسا کہ اگر ایک شخص کے معدے کو اللہ تعالیٰ نے دو چھٹا نک آٹا ہضم کرنے کی طاقت دی ہے اور وہ ایک سیر کھالیتا ہے تو بد ہضمی ہو جائے گی اور اگر کسی کے معدے کو آدھ سیر آٹا کھانے کی طاقت ہے جیسا کہ عام طور پر ہمارے زمینداروں کے معدوں کو یہ طاقت ہے تو اگر وہ دو چھٹانک کھائیں گے تو وہ کمزور ہو جائیں گے اگر وہ دوسیر کھالیں گے تو وہ بھی خرابی پیدا کرے گا اور بد ہضمی ہو جائے گی۔اسی طرح انسان کی ظاہری زندگی میں ہم ہزاروں مثالیں ایسی دے سکتے ہیں کہ انسان استعداد سے نہ ادھر ہوسکتا ہے نہ اُدھر ہوسکتا ہے لیکن استعداد کے اندر اس کو آزادی ہے مثلاً اس کو یہ آزادی ہے کہ اس نے اپنی ذات کے متعلق غور کر کے ، محاسبہ نفس کر کے اپنی طبیعت اور فطرت اور عادات اور اپنے جسم کے مختلف حصوں کی طاقت کو مہِ نظر رکھ کر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جو پروگرام بنایا ہے اس پر عمل کرے اور اپنی استعداد کے مطابق خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرے اس کو یہ آزادی حاصل ہے اور اسی کو ہم تقدیر کہتے ہیں یعنی انسان کو صاحب اختیار بنانا اور اس کو آزادی دینا یہ الہی تقدیر ہے۔اس نے یہ چاہا کہ ایسا ہو فَقَدَرَة تَقْدِيرًا اگر اللہ نہ چاہتا تو انسان کبھی آزاد نہ ہوتا۔انسان کے بارے میں تقدیر اور اندازے کے متعلق قرآن کریم میں بیسیوں آیات ہیں پہلے مجھے خیال آیا کہ میں ایسی تیس آیات منتخب کر کے انہیں اس خطبے کا حصہ بنادوں لیکن پھر میں نے سوچا کہ پہلے میں اصولی بات ذہن نشین کرانے کی کوشش کروں اور اس کے بعد دوسری طرف آؤں۔پس