انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 574 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 574

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۷۴ سورة النور سے کس طرح علیحدہ ہو گیا لیکن یہ ٹھیک ہے کہ بشر کا جو وجود تھا اس کے لحاظ سے کچھ عرصے کے بعد وفات ہوگئی لیکن بنی نوع انسان کے لئے اتنا عظیم اُسوہ آپ نے چھوڑا ہے۔بنی نوع انسان تو جب تک مانے نہیں فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔آپ نے اپنے متبعین، امت محمدیہ کے لئے اتنا عظیم اُسوہ چھوڑا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔بشر کے لحاظ سے بھی ہم آپ کی ذات اپنے تصور میں لا ئیں یا ٹور اور سراج منیر کے لحاظ سے آپ کی ذات اپنے تصور میں لائیں بے اختیار ہمارے منہ سے نکلتا ہے اللهم صلِ على محمد و على آل محمد۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۱ تاس ۸۴) سورہ حمد میں اللہ تعالیٰ کی جن بنیادی صفات کا ذکر ہوا ہے وہ چار ہیں۔ان کو اصل الاصول صفات باری یا اتم الصفات سمجھنا چاہیے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات ان ہی چار صفات کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں تعلق رکھتی ہیں۔اگر ہم یہ ثابت کر دیں کہ یہ خدا تعالیٰ کی اُتم الصفات ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ( میں قرآن کریم کی زبان میں بات کر رہا ہوں ) قرآنِ کریم کا یہ دعوی ہے کہ یہ صفات آپ کے اندر پائی جاتی تھیں۔تو پھر ہمیں تاریخ دیکھنی پڑے گی۔جس کو وقتی طور پر ہم ایک حد تک نظر انداز بھی کر سکتے ہیں اور کچھ مثالیں بھی دے سکتے ہیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ رب العالمین کی صفت کامل طور پر محمدصلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی اور رحمانیت کی کامل صفت آپ کے اندر پائی جاتی تھی اور اسی طرح رحیمیت کی اور مالکیت کی صفت بھی آپ کی ذات میں جلوہ گر تھی اور چونکہ یہ چاروں صفات اللہ تعالیٰ کی ساری صفات کی اصل یا اُمّم الصفات ہیں اس لئے ماننا پڑے گا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تمام صفات باری تعالیٰ کا مظہر اتم ہے۔یہ چار صفات جو سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بیان کی ہیں اور جن کے متعلق ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ اصل الاصول اور اُم الصفات ہیں۔قرآن کریم نے یہ کہا ہے کہ اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ اللہ تعالیٰ جو تمام صفاتِ حسنہ کا مالک ہے۔اُس میں کوئی عیب یا نقص، کوئی اندھیرا یا ظلمت نہیں پائی جاتی۔تمام جہانوں کا حقیقی ٹور وہی ہے۔اس حقیقت کو شاید بچوں کے لئے سمجھنا مشکل ہوگا اس لئے میں اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں سمجھا دیتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: یہ سورج کی روشنی نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا نور ہے جو سورج کی چادر میں چُھپ کر یا لپٹ