انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 565
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۶۵ سورة النور کردے۔مسلمان بادشاہ جو حاکم رہے ہیں ہندوستان کے ایک وقت میں جب خوشامد بہت بڑھ گئی ان کی تو لوگ ان سے فائدہ اٹھانے کے لئے ایک ایک ہزار تحفہ ایک عید کے موقع پر ان کے سامنے رکھ دیتے تھے اور ان کا دستور یہ تھا کہ مثلاً ایک کپڑا پسند کر لیا ان پانچ سونہایت قیمتی کپڑے کے تھانوں میں سے جوان کے سامنے رکھے گئے تھے اور کہا باقی تم واپس لے جاؤ جس طرح چاہو استعمال کرو۔ملک کے لحاظ سے اقتصادی طور پر فائدہ بھی تھا اس میں۔لیکن ان کی ایک چیز اٹھا لیتے تھے وہ اپنی رعایا میں سے ایک فرد کو خوش کرنے کے لئے۔جو انسان بادشاہ کو حق دیتا ہے کہ جس چیز کو چاہے پسند کرے اور قبول کر لے لیکن اپنے خدا سے جو خالق اور مالک ہے یہ توقع رکھتا ہے کہ ہر رطب و یابس جو ہم اس کے حضور پیش کریں وہ اسے قبول کر لے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل اور اپنی رحمت سے جس چیز کو چاہتا ہے، جن اعمال صالحہ کو پسند کرتا ہے قبول کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ تمہیں پاکیزگی بخشتا ہے، طہارت پر قائم رہنے کی توفیق عطا کرتا ہے۔پاکیزہ اعمال تم سے سرزد ہوتے ہیں اور وہ تم سے خوش ہوتا ہے اور اپنے قرب کی راہیں تمہارے اوپر کھولتا و لكنَّ اللَّهَ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ اگر خدا تعالیٰ کسی کو پاک نہ قرار دے اس وقت تک وہ پاک نہیں ہو سکتا۔اس لئے اس میدان میں عاجزانہ راہوں کو چھوڑ نا ہلاکت کی راہ کو اختیار کرنا ہے۔سورۃ النجم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ اَنْشَاكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنْتُمْ أَجِنَّةٌ فِي b بُطُونِ أُمَّهَتِكُمْ فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم : ٣٣) خدا تعالیٰ تمہیں اس وقت سے جانتا ہے جب تمہارے جسم کے ذرے ابھی مٹی میں ملے ہوئے تھے اور اس نے ان ذروں کو اٹھایا اور ایک مادی جسم پیدا کر دیا۔وہ اس وقت سے تم کو خوب جانتا ہے جب اس نے تم کو زمین سے پیدا کیا۔پھر کم و بیش نو مہینے تم اپنی ماں کے پیٹ میں رہے۔نہ ماں کو پتا تھا کہ یہ بچہ کیسا ہے نہ اس بچے کو ہوش تھی کہ میں کیا بنوں گا لیکن خدا جانتا تھا۔پس وہ اس وقت سے تم کو خوب جانتا ہے جب کہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں پوشیدہ تھے۔پس اپنی جانوں کو پاک مت قرار