انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 564 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 564

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۶۴ سورة النور آیت ۲۲ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشَّيْطَنِ وَ مَنْ يَتَّبِعْ خُطُوتِ الشَّيْطَنِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَ لَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَى مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ جہاں تک روحانی پاکیزگی اور تقویٰ کا سوال ہے ظاہر ہے کہ روحانی طور پر پاکیزہ وہ نہیں جو اپنے آپ کو پاکیزہ سمجھتا ہے۔روحانی طور پر پاکیزہ وہ ہے جسے خدا پاکیزہ قرار دیتا ہے اور یہ فیصلہ کرنا کہ متقی کون ہے اور کون نہیں یہ میرا اور آپ کا کام نہیں یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور اس سلسلہ میں قرآن کریم نے جو ہدایت دی وہ غیر مشتبہ اور واضح اور بین ہے۔اس وقت میں تین آیات کو لے کے آپ کے سامنے پیش کروں گا۔اللہ تعالیٰ سورہ نور میں فرماتا ہے وَ لَو لَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَى مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۔اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحم تم پر نہ ہوتا تو کبھی بھی تم میں سے کوئی پاک باز نہ ہو تا لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے پاک باز ا سے قرار دیتا ہے اور پاک باز اسے بنادیتا ہے۔اللہ تعالیٰ بہت سننے والا ہے۔سمیع ہے۔تمہارے بلند دعاوی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے کوئی فیصلہ نہیں کرنا۔ہر بات جو تمہارے منہ سے نکلتی ہے وہ سنتا ہے۔ہر خیال جو تمہارے دل میں گزرتا ہے علیم اسے وہ سنتا۔۔جانتا ہے۔سینوں کے حالات سے واقف، جو زبانوں پر تمہاری آتا ہے وہ اس سے پوشیدہ نہیں لیکن محض تمہارے دعادی کے نتیجہ میں تمہیں وہ پاکیزہ اور مطہر نہیں قرار دے گا بلکہ جس پر چاہے گا اپنا فضل نازل کرے گا۔جسے پسند کرے گا اپنی رحمت سے نوازے گا۔جسے چاہے گا ایسے اعمال کی تو فیق عطا کرے گا جنہیں چاہتا ہے کہ بندے اس کے حضور پیش کریں اور جن اعمال کو چاہے گا اور پسند کرے گا انہیں وہ قبول کرے گا۔انسان اپنی جہالت کے نتیجہ میں انسان کو تو یہ حق دینے کے لئے تیار ہو گیا کہ جب کچھ اشیا پیش کی جائیں اس کے سامنے تو ان بہت سی اشیا میں سے جسے چاہے پسند کر لے اور جسے چاہے واپس