انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 563 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 563

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۵۶۳ سورة النور بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة النور آیت ا وَلَوْلَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَ أَنَّ اللهَ تَوَّابُ حَكِيمٌ تو جب بندہ بار بار اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے۔استغفار کرتے ہوئے۔اپنی گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے۔اس کی رحمت پر کامل امید اور بھروسہ رکھتے ہوئے۔تو پھر خدائے تو اب اپنی صفت کا جلوہ دکھاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ نور میں فرمایا۔وکو لَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَ أَنَّ اللهَ تَوَابٌ حَكِيمُ کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہو اور یہ حقیقت نہ ہو کہ خدا تعالیٰ رحیم ہونے کے باوجود، خدا تمہاری احتیاج نہ رکھنے کے باوجود، خدا آحد ہونے کے با وجود یکتا اور منفرد اپنی ذات اور صفات میں ہونے کے باوجود یہ صفت بھی رکھتا ہے کہ وہ تواب ہے۔اگر خدا تو اب نہ ہوتا اور حکیم نہ ہوتا اور فضلوں اور رحمتوں والا نہ ہوتا۔تو تم ہلاک ہو جاتے۔کیونکہ خالی اوّاب ہونا ضروری نہیں۔کوئی انسان ہے جو یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس کے عمل میں کوئی نقص نہیں اور اس کے اعتقادات اور روحانی تجربے جو ہیں یا جو جد و جہد ہے اس کے اندر کوئی فساد نہیں۔کوئی ایسا دعوی نہیں کر سکتا اور محض او اب ہونا کافی نہیں جب تک ہمارا رب تو اب بھی نہ ہو۔وہ تو بہ قبول کرنے والا اور اپنی حکمت بالغہ سے بہت سے گناہوں کو معاف کرنے والا نہ ہو۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورۃ حجرات میں فرمایا۔وَاتَّقُوا الله (الحجرات : ۱۳) کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر ڈر کے اپنی زندگی کے دن گزار واگر تم ایسا کرو گے تو پھر ہم تمہیں یہ خوشخبری دیتے ہیں کہ جو کمزوریاں رہ جائیں گی۔ان کے باوجود إِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ (الحجرات: ۱۳) خدا تعالیٰ تمہاری تو بہ کو قبول بھی کرے گا اور جو تم نے عمل کئے ہیں ان کا بدلہ اس فارمولے کے مطابق دے گا جو اس نے قرآن کریم میں بیان کیا ہے۔دس گنا، سوگنا، سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ۔(خطبات ناصر جلد دہم صفحہ ۲۰)