انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 559
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۵۵۹ سورة المؤمنون ہے جو اللہ کی طرف لے جانے والا ہے اور چونکہ صرف زبان کا دنیا پر اثر نہیں ہوتا جب تک عملی نمونہ ساتھ نہ ہو اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ عَمِلَ صَالِحًا۔پس تم پر فرض ہے کہ تم اپنے عملی نمونہ سے دنیا پر یہ ثابت کرو کہ تم واقعہ میں خدا کے مقرب اور اس کی طرف بلانے والے ہو تمہیں اپنا فائدہ مطلوب نہیں ہے۔ہم تمہاری فلاح اور تمہاری نجات اس میں دیکھتے ہیں کہ تم اپنے رب کو پہچاننے لگو اور اسی کی طرف ہم دعوت دیتے ہیں اور اس بات کا ثبوت کہ ہم واقعہ میں اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں، اپنے فائدہ کی تلاش میں نہیں ہیں یہ ہے کہ ہم جو کہتے ہیں اس کے مطابق عمل بھی کرتے ہیں یہ نہیں کہ ہم تمہیں کہیں کہ تم خدا تعالیٰ کے لے مالی قربانیاں دو لیکن ہم خود مالی قربانیوں میں پیچھے ہوں ہم تمہیں کہیں کہ خدا کے لئے اپنے نفسوں کی قربانی دو اور خود ہمارا یہ حال ہو کہ ذراسی بات پر ہمارے جذبات بھڑک اُٹھیں نہیں بلکہ احسن قول اس کا ہے جو اپنی زبان سے بھی اللہ کی طرف بلانے والا ہے اور اپنے افعال سے بھی اللہ کی طرف سے بلانے والا ہے وَقالَ اِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ اور اس کی روح کی بھی یہی آواز ہے کہ میں مسلم ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم بھی مسلمان بن جاؤ میں تم سے کسی دنیوی فائدہ کا طالب نہیں میں نے تو اپنا سب کچھ ہی اپنے رب کے قدموں پر قربان کر دیا ہے میری تو اپنی کوئی خواہش باقی نہیں رہی ، میرا تو اپنا کوئی جذبہ باقی نہیں رہا، میرا تو اپنا کوئی مال باقی نہیں رہا جو تمہاری نظر میں میری اولاد یا رشتہ دار ہیں ہر آن میری روح کی یہ آواز ہے کہ جہاں میں اپنے نفس کو اپنے خدا کی راہ میں قربان کروں یہ بھی اس کی راہ میں قربان ہو جائیں۔اگر یہ تین آوازیں تم دنیا میں بلند کرو گے زبان، عمل صالح اور روح کی پکار یعنی تمہاری دعوت بھی اللہ کی طرف ہے تمہارا عمل بھی محض اس کے لئے ہے اور تمہاری روح بھی اس کے آستانہ پر پڑی ہوئی ہے تو پھر تم لوگوں کو رب کی طرف اپنے پیدا کرنے والے کی طرف واپس لوٹا لانے میں کامیاب ہو گئے ورنہ نہیں وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ (حم السجدة : ۳۵) اور حقیقت یہی ہے کہ جو نعمت اور خوشحالی حقیقی معنی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہاں بھی اور وہاں بھی ملتی ہے وہ اور السيئة برابر نہیں ہوتیں جو خدا کی رحمتیں ہیں جو خدا کی نعمتیں ہیں ان کے مقابلہ پر شیطان کیا پیش کر سکتا ہے کچھ بھی نہیں اس لئے اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ہم پھر کہتے ہیں کہ یہ احسن جس کا اس آیت میں اور دوسری آیت میں ذکر ہے اس کے ذریعہ تم بُرائی کا جواب دو۔